Poetry
Poet
Meter
- ہم ایسے سارے ثبوتوں کو پھاڑ ڈالیں گےہمارے بیچ میں جو بھی دراڑ ڈالیں گےFaisal Qadri Gunnauri (b. 1995)
- ہے ان میں کیسا جادو بولتی ہیںتری آنکھیں بھی اردو بولتی ہیںFaisal Qadri Gunnauri (b. 1995)
- یہ کیسا بوجھ ہے بھاری ہے دل پرعجب سی کیفیت طاری ہے دل پرFaisal Qadri Gunnauri (b. 1995)
- آدمیت کا دین میرے خوابمثل آب و زمین میرے خوابVijay Sharma (b. 1995)
- اب کہاں درد جسم و جان میں ہےدفن ہے دل بدن دکان میں ہےVijay Sharma (b. 1995)
- اس گلی تک سڑک رہی ہوگیراہ اب بھی وہ تک رہی ہوگیVijay Sharma (b. 1995)
- باتوں باتوں میں ہی عنوان بدل جاتے ہیںکتنی رفتار سے انسان بدل جاتے ہیںVijay Sharma (b. 1995)
- بارہ چاند گئے پونم کے پیار بھرا اک ساون بھیگئے دنوں میں سال بھی گزرا اور گیا کچھ جیون بھیVijay Sharma (b. 1995)
- بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈھتا رہتا ہےدل پاگل ہے کیا کیا ڈھونڈھتا رہتا ہےVijay Sharma (b. 1995)
- ترے غرور مرے ضبط کا سوال رہابکھر بکھر کے تجھے چاہنا کمال رہاVijay Sharma (b. 1995)
- تمام درد کسی لے میں گنگناتے ہوئےوہ کھو گیا کہیں شو رنجنی سناتے ہوئےVijay Sharma (b. 1995)
- تمام ریت پہ بکھرا ہے تن اداسی کاوہ لہر ہے یا کوئی پیرہن اداسی کاVijay Sharma (b. 1995)
- جس بھی جگہ دیکھی اس نے اپنی تصویر ہٹا لی تھیمیرے دل کی دیواروں پر دیمک لگنے والی تھیVijay Sharma (b. 1995)
- رہی ہے یوں ہی ندامت مجھے مقدر سےگزر رہی ہے صبا جس طرح مرے گھر سےVijay Sharma (b. 1995)
- زخم محسوس نہ ہو نیند ذرا آنے دوپھر کسی خواب میں مر جاؤں تو مر جانے دوVijay Sharma (b. 1995)
- سحر نہ ہاتھ لگی سو ستارے چھو آئےدعا کرو ہمیں آداب جستجو آئےVijay Sharma (b. 1995)
- شہر بیزار رہ گزر تنہازندگی اٹھ چلی کدھر تنہاVijay Sharma (b. 1995)
- ضعیف روح ہوئی پر بدن ڈھلا کہ نہیںکے تیرے دیس تیرا راستہ بنا کہ نہیںVijay Sharma (b. 1995)
- طلسم سایۂ حسرت فضا حیرانیپھر آج تپنے لگی ہے ہماری پیشانیVijay Sharma (b. 1995)
- کسی سوکھے ہوئے شجر سا ہوںایک لمحے میں عمر بھر سا ہوںVijay Sharma (b. 1995)
- نم آنکھوں میں کیا کر لے گا غصہ دیکھیں گےاوس کے اوپر چنگاری کا لہجہ دیکھیں گےVijay Sharma (b. 1995)
- وہی نباہ کے کانٹے وہی گلاب کے پھولمیرے نصیب میں کب آئے میرے خواب کے پھولVijay Sharma (b. 1995)
- یہ سانحہ ہے بھلا اور کس کے سر جاناہوا کا وقت سے چلنا فزا ٹھہر جاناVijay Sharma (b. 1995)
- قیس نے عشق کیاپر شاعری نہیں کیVijay Sharma (b. 1995)
- نیا نیا ہے سو کہہ لو اسے اکیلا پنپھر اس مرض کے کئی اور نام آئیں گےVijay Sharma (b. 1995)
- آواز کی دوری پہ کھڑا سوچ رہا ہوںاب کون مجھے دے گا صدا سوچ رہا ہوںDanish Naqwi (b. 1995)
- پیاسے چہروں پر لگتے ہیں خالی ہاتھ دعاؤں کےپھر بھی کون سمجھ سکتا ہے دکھ سوکھے دریاؤں کےDanish Naqwi (b. 1995)
- راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکامیں کہ اس پار تھا اس پار نہیں دیکھ سکاDanish Naqwi (b. 1995)
- سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھےدراصل اداکار حقیقت میں مرے تھےDanish Naqwi (b. 1995)
- کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گیضرور تجھ کو کسی کی کمی ہوا کرے گیDanish Naqwi (b. 1995)
- کسی کو اپنی کسی کو اپنی کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہےہمیں تو لے دے کے ساری دنیا میں صرف تیری پڑی ہوئی ہےDanish Naqwi (b. 1995)
- ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتےہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتےDanish Naqwi (b. 1995)
- مشکل دن بھی آئے لیکن فرق نہ آیا یاری میںہم نے پوری جان لگائی اس کی تابع داری میںDanish Naqwi (b. 1995)
- مصیبتیں سر برہنہ ہوں گی عقیدتیں بے لباس ہوں گیتھکے ہوؤں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہوں گیDanish Naqwi (b. 1995)
- نظر تو آیا مگر جا بجا نہیں آیازمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیاDanish Naqwi (b. 1995)
- وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کوگلے لگا تو پتہ بھی نہیں چلا مجھ کوDanish Naqwi (b. 1995)
- یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنےکوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنےDanish Naqwi (b. 1995)
- آؤ ہر یار گزشتہ کو بلایا جائےدل کی حالت کا تماشہ سا بنایا جائےRafia Zainab (b. 1995)
- اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئےعمر کے اس دور میں اب ذمہ داری چاہیئےRafia Zainab (b. 1995)
- جلتی رتوں میں عمر گزرنے کے بعد ابسرشار ایک سایۂ رحمت نے کر دیاRafia Zainab (b. 1995)
- جی پہ لے کر یہ بار بیٹھے ہیںتیرے عاشق ہزار بیٹھے ہیںRafia Zainab (b. 1995)
- شوق اب تکمیل کو پہنچا مرادیکھ کیسا زرد ہے چہرہ مراRafia Zainab (b. 1995)
- عمر گزری کہ تجھے ہم نے بھلا رکھا ہےاپنے ہر جاننے والے کو بتا رکھا ہےRafia Zainab (b. 1995)
- کبھی مقدر جو یہ عنایت کرے تو کیا ہوبچھڑ کے مجھ سے وہ میری چاہت کرے تو کیا ہوRafia Zainab (b. 1995)
- کوئی اتنا بے سہارا کیسے ہو سکتا ہے یارایک منظر پر گزارا کیسے ہو سکتا ہے یارRafia Zainab (b. 1995)
- مجھے سوال کی شرمندگی سے الجھن تھیوہ میرے پوچھے بنا ہر جواب رکھتا تھاRafia Zainab (b. 1995)
- ہم کو اتنا ہی بس غنیمت ہےنا سہی عشق پر عنایت ہےRafia Zainab (b. 1995)
- ہو چکا کھیل یہ اسباب اٹھاؤ جاؤکوئی امید نہ اب مجھ کو بندھاؤ جاؤRafia Zainab (b. 1995)
- یوں جونؔ پڑھ کر لہو اگلنے کی مجھ سے شرطیں نہ باندھ لیناغرض کے بے جا گمان پر تم یقیں کی گرہیں نہ باندھ لیناRafia Zainab (b. 1995)
- ابھی اس قصۂ غم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیںمریض عشق بے دم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیںMaham Khan (b. 1995)