Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ہم ایسے سارے ثبوتوں کو پھاڑ ڈالیں گےہمارے بیچ میں جو بھی دراڑ ڈالیں گےFaisal Qadri Gunnauri (b. 1995)
  2. ہے ان میں کیسا جادو بولتی ہیںتری آنکھیں بھی اردو بولتی ہیںFaisal Qadri Gunnauri (b. 1995)
  3. یہ کیسا بوجھ ہے بھاری ہے دل پرعجب سی کیفیت طاری ہے دل پرFaisal Qadri Gunnauri (b. 1995)
  4. آدمیت کا دین میرے خوابمثل آب و زمین میرے خوابVijay Sharma (b. 1995)
  5. اب کہاں درد جسم و جان میں ہےدفن ہے دل بدن دکان میں ہےVijay Sharma (b. 1995)
  6. اس گلی تک سڑک رہی ہوگیراہ اب بھی وہ تک رہی ہوگیVijay Sharma (b. 1995)
  7. باتوں باتوں میں ہی عنوان بدل جاتے ہیںکتنی رفتار سے انسان بدل جاتے ہیںVijay Sharma (b. 1995)
  8. بارہ چاند گئے پونم کے پیار بھرا اک ساون بھیگئے دنوں میں سال بھی گزرا اور گیا کچھ جیون بھیVijay Sharma (b. 1995)
  9. بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈھتا رہتا ہےدل پاگل ہے کیا کیا ڈھونڈھتا رہتا ہےVijay Sharma (b. 1995)
  10. ترے غرور مرے ضبط کا سوال رہابکھر بکھر کے تجھے چاہنا کمال رہاVijay Sharma (b. 1995)
  11. تمام درد کسی لے میں گنگناتے ہوئےوہ کھو گیا کہیں شو رنجنی سناتے ہوئےVijay Sharma (b. 1995)
  12. تمام ریت پہ بکھرا ہے تن اداسی کاوہ لہر ہے یا کوئی پیرہن اداسی کاVijay Sharma (b. 1995)
  13. جس بھی جگہ دیکھی اس نے اپنی تصویر ہٹا لی تھیمیرے دل کی دیواروں پر دیمک لگنے والی تھیVijay Sharma (b. 1995)
  14. رہی ہے یوں ہی ندامت مجھے مقدر سےگزر رہی ہے صبا جس طرح مرے گھر سےVijay Sharma (b. 1995)
  15. زخم محسوس نہ ہو نیند ذرا آنے دوپھر کسی خواب میں مر جاؤں تو مر جانے دوVijay Sharma (b. 1995)
  16. سحر نہ ہاتھ لگی سو ستارے چھو آئےدعا کرو ہمیں آداب جستجو آئےVijay Sharma (b. 1995)
  17. شہر بیزار رہ گزر تنہازندگی اٹھ چلی کدھر تنہاVijay Sharma (b. 1995)
  18. ضعیف روح ہوئی پر بدن ڈھلا کہ نہیںکے تیرے دیس تیرا راستہ بنا کہ نہیںVijay Sharma (b. 1995)
  19. طلسم سایۂ حسرت فضا حیرانیپھر آج تپنے لگی ہے ہماری پیشانیVijay Sharma (b. 1995)
  20. کسی سوکھے ہوئے شجر سا ہوںایک لمحے میں عمر بھر سا ہوںVijay Sharma (b. 1995)
  21. نم آنکھوں میں کیا کر لے گا غصہ دیکھیں گےاوس کے اوپر چنگاری کا لہجہ دیکھیں گےVijay Sharma (b. 1995)
  22. وہی نباہ کے کانٹے وہی گلاب کے پھولمیرے نصیب میں کب آئے میرے خواب کے پھولVijay Sharma (b. 1995)
  23. یہ سانحہ ہے بھلا اور کس کے سر جاناہوا کا وقت سے چلنا فزا ٹھہر جاناVijay Sharma (b. 1995)
  24. قیس نے عشق کیاپر شاعری نہیں کیVijay Sharma (b. 1995)
  25. نیا نیا ہے سو کہہ لو اسے اکیلا پنپھر اس مرض کے کئی اور نام آئیں گےVijay Sharma (b. 1995)
  26. آواز کی دوری پہ کھڑا سوچ رہا ہوںاب کون مجھے دے گا صدا سوچ رہا ہوںDanish Naqwi (b. 1995)
  27. پیاسے چہروں پر لگتے ہیں خالی ہاتھ دعاؤں کےپھر بھی کون سمجھ سکتا ہے دکھ سوکھے دریاؤں کےDanish Naqwi (b. 1995)
  28. راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکامیں کہ اس پار تھا اس پار نہیں دیکھ سکاDanish Naqwi (b. 1995)
  29. سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھےدراصل اداکار حقیقت میں مرے تھےDanish Naqwi (b. 1995)
  30. کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گیضرور تجھ کو کسی کی کمی ہوا کرے گیDanish Naqwi (b. 1995)
  31. کسی کو اپنی کسی کو اپنی کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہےہمیں تو لے دے کے ساری دنیا میں صرف تیری پڑی ہوئی ہےDanish Naqwi (b. 1995)
  32. ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتےہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتےDanish Naqwi (b. 1995)
  33. مشکل دن بھی آئے لیکن فرق نہ آیا یاری میںہم نے پوری جان لگائی اس کی تابع داری میںDanish Naqwi (b. 1995)
  34. مصیبتیں سر برہنہ ہوں گی عقیدتیں بے لباس ہوں گیتھکے ہوؤں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہوں گیDanish Naqwi (b. 1995)
  35. نظر تو آیا مگر جا بجا نہیں آیازمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیاDanish Naqwi (b. 1995)
  36. وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کوگلے لگا تو پتہ بھی نہیں چلا مجھ کوDanish Naqwi (b. 1995)
  37. یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنےکوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنےDanish Naqwi (b. 1995)
  38. آؤ ہر یار گزشتہ کو بلایا جائےدل کی حالت کا تماشہ سا بنایا جائےRafia Zainab (b. 1995)
  39. اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئےعمر کے اس دور میں اب ذمہ داری چاہیئےRafia Zainab (b. 1995)
  40. جلتی رتوں میں عمر گزرنے کے بعد ابسرشار ایک سایۂ رحمت نے کر دیاRafia Zainab (b. 1995)
  41. جی پہ لے کر یہ بار بیٹھے ہیںتیرے عاشق ہزار بیٹھے ہیںRafia Zainab (b. 1995)
  42. شوق اب تکمیل کو پہنچا مرادیکھ کیسا زرد ہے چہرہ مراRafia Zainab (b. 1995)
  43. عمر گزری کہ تجھے ہم نے بھلا رکھا ہےاپنے ہر جاننے والے کو بتا رکھا ہےRafia Zainab (b. 1995)
  44. کبھی مقدر جو یہ عنایت کرے تو کیا ہوبچھڑ کے مجھ سے وہ میری چاہت کرے تو کیا ہوRafia Zainab (b. 1995)
  45. کوئی اتنا بے سہارا کیسے ہو سکتا ہے یارایک منظر پر گزارا کیسے ہو سکتا ہے یارRafia Zainab (b. 1995)
  46. مجھے سوال کی شرمندگی سے الجھن تھیوہ میرے پوچھے بنا ہر جواب رکھتا تھاRafia Zainab (b. 1995)
  47. ہم کو اتنا ہی بس غنیمت ہےنا سہی عشق پر عنایت ہےRafia Zainab (b. 1995)
  48. ہو چکا کھیل یہ اسباب اٹھاؤ جاؤکوئی امید نہ اب مجھ کو بندھاؤ جاؤRafia Zainab (b. 1995)
  49. یوں جونؔ پڑھ کر لہو اگلنے کی مجھ سے شرطیں نہ باندھ لیناغرض کے بے جا گمان پر تم یقیں کی گرہیں نہ باندھ لیناRafia Zainab (b. 1995)
  50. ابھی اس قصۂ غم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیںمریض عشق بے دم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیںMaham Khan (b. 1995)