مجھے سوال کی شرمندگی سے الجھن تھی

Rafia Zainab (b. 1995)

مجھے سوال کی شرمندگی سے الجھن تھی

وہ میرے پوچھے بنا ہر جواب رکھتا تھا

ہمارے ہجر کے موسم گزارنے کے لیے

سرہانے اپنے مری اک کتاب رکھتا تھا

وہ بھول جاتا تھا خود پر ستم جو ہو جائیں

مگر جو مجھ پہ ہوں سارے حساب رکھتا تھا

مری تھکی ہوئی آنکھوں میں پیاس رہتی تھی

وہ خواب خواب سی آنکھوں میں آب رکھتا تھا

اسے پتہ تھا مجھے لفظ چھوڑ جاتے ہیں

سو میری روح سے اکثر خطاب رکھتا تھا

یہ مرد و زن کے تفرقوں سے اس کو نفرت تھی

وہ ہر سفر میں مجھے ہم رکاب رکھتا تھا