وہی نباہ کے کانٹے وہی گلاب کے پھول

Vijay Sharma (b. 1995)

وہی نباہ کے کانٹے وہی گلاب کے پھول

میرے نصیب میں کب آئے میرے خواب کے پھول

سکون ضبط پہ ٹھہرا وہ درد کا موسم

جنوں کے رنگ میں کھلتے رہے عذاب کے پھول

طلسم کیسا بندھا ہے ہوائے صحرا سے

مہک رہے ہیں میری ذات میں سراب کے پھول

بہ شکل بت ملی صحرا میں دیوی پت جھڑ کی

یہ سوچتا ہوں چڑھاؤں اسے میں آب کے پھول

نہیں ہے کوئی توازن وفا و حسن کے بیچ

نہ اب وہ ہجر نہ سوکھے ہوئے کتاب کے پھول

مہک رہی ہے میرے صحن کی نئی مٹی

برس رہے ہیں بڑی دیر سے سحاب کے پھول