سحر نہ ہاتھ لگی سو ستارے چھو آئے

Vijay Sharma (b. 1995)

سحر نہ ہاتھ لگی سو ستارے چھو آئے

دعا کرو ہمیں آداب جستجو آئے

عجیب روشنی در آئی ہے دریچے سے

پرانے زخم سے یک لخت جیوں لہو آئے

بتاؤ گور کنو! ایک گھر بنا دوگے؟

کہ جس میں خواب نہ چہرہ نہ آرزو آئے

وہ تارہ ٹوٹا ادھر میل لکھ رہا ہوں تجھے

پہ تیرا نام نہ چہرہ نہ یاد تو آئے

چٹخ کے ٹوٹنا عادت ہوئی ہے چہرے کی

اور اس پہ شوق کہ آئینہ رو بہ رو آئے