زخم محسوس نہ ہو نیند ذرا آنے دو

Vijay Sharma (b. 1995)

زخم محسوس نہ ہو نیند ذرا آنے دو

پھر کسی خواب میں مر جاؤں تو مر جانے دو

کتنا لمبا ہے صفر خود سے گزر ہونے کا

تھک چکا ہوں میں کہیں چین سے سو جانے دو

میں بہت دور سے آیا ہوں اک امید لئے

بیٹھنے مت دو مگر نام تو بتلانے دو

پھر شب وصل کچھ اس طور سے آباد ہوئی

جیسے ملنے کو ہوئے دشت کے ویرانے دو