طلسم سایۂ حسرت فضا حیرانی
Vijay Sharma (b. 1995)طلسم سایۂ حسرت فضا حیرانی
پھر آج تپنے لگی ہے ہماری پیشانی
یہ بت بھی ٹھیک یہ توحید بھی یہ کفر بھی ٹھیک
کہیں پہ برف کہیں بھاپ وہ کہیں پانی
دھنسا ہوا کسی بن پھول کا کوئی کانٹا
ہماری روح میں کرتا ہے خوشبو جانی
ہزار پھول میرے بے دھڑکتے سینے پر
مگر گئی نہ کہیں دو جہاں کی ویرانی
مجھے نہ چھیڑ میں اکتا چکا ہوں دنیا سے
میں اپنے آپ کا مورکھ خود اپنا میں گیانی