شوق اب تکمیل کو پہنچا مرا

Rafia Zainab (b. 1995)

شوق اب تکمیل کو پہنچا مرا

دیکھ کیسا زرد ہے چہرہ مرا

مطمئن تھی میں منا لوں گی اسے

غیر کیوں سلجھا گیا جھگڑا مرا

ہم سفر ہر گام پر ملتے رہے

دل مگر اکثر رہا تنہا مرا

میری وحشت تو خدا کے بس کی نئیں

عشق سے پھر کام کیا بنتا مرا

جیت کر بھی ہے رقیبوں کو گلہ

ختم ہوتا ہی نہیں چرچا مرا