آؤ ہر یار گزشتہ کو بلایا جائے
Rafia Zainab (b. 1995)آؤ ہر یار گزشتہ کو بلایا جائے
دل کی حالت کا تماشہ سا بنایا جائے
شاخ سے ہو کے جدا گل پہ ترے کیا گزری
باغباں کو یہ کسی روز بتایا جائے
صورت زرد کو پڑھ چاک گریباں کو سمجھ
کیا ضروری ہے کہ ہر زخم دکھایا جائے
مجھ کو اس عہد محبت سے شکایت یہ ہے
اس میں جو لفظ ہمیشہ ہے ہٹایا جائے
اب کنویں بھی کہاں موجود ہیں ان شہروں میں
کس طرح سنت علوی کو نبھایا جائے