یہ سانحہ ہے بھلا اور کس کے سر جانا

Vijay Sharma (b. 1995)

یہ سانحہ ہے بھلا اور کس کے سر جانا

ہوا کا وقت سے چلنا فزا ٹھہر جانا

نئی نہیں ہے یہ تنہائی میرے حجرے کی

مرض ہو کوئی بھی ہے چارہ گر سے ڈر جانا

یہی ہے زیست کی پہچان موت سے پہلے

تمام طرح کی تنہائیوں سے بھر جانا

تمام عمر گزرنا سیاہ لمحوں سے

پھر ایک شام نئی روشنی سے بھر جانا

کسی کے خواب سے چلنا کسی کے خواب تلک

کسی کی جاگتی آنکھوں میں گھٹ کے مر جانا

عجیب رنج ہے سانسوں کا آج دھڑکن سے

کہ اک نفس کے لیے ہر نفس ہے مر جانا

تمام شوق سے کاٹے گئے درخت یہاں

تمام درد سے ہے آدمی کو بھر جانا