ضعیف روح ہوئی پر بدن ڈھلا کہ نہیں

Vijay Sharma (b. 1995)

ضعیف روح ہوئی پر بدن ڈھلا کہ نہیں

کے تیرے دیس تیرا راستہ بنا کہ نہیں

ہیں اپنی ذات کے منکر زمین و آب بھی کیا

اداس رنگ شجر کا ہرا ہوا کہ نہیں

یہ بحث چھوڑ کے کتنی حسین ہے دنیا

تو یہ بتا کہ تیرا دل کہیں لگا کہ نہیں

میں خود سے روٹھ کے دنیا کا ہو چکا تھا مگر

وہ مجھ کو چھوڑ کے اپنا بھی ہو سکا کہ نہیں

نہیں وہ حال کے احساس نو برت پاؤں

تو فاصلہ ہی سے مجھ کو سنبھال آ کہ نہیں