ابھی اس قصۂ غم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں
Maham Khan (b. 1995)ابھی اس قصۂ غم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں
مریض عشق بے دم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں
گلستان محبت پر کہر سا چھا گیا جیسے
گلوں پہ رقص شبنم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں
محبت کے فسانے کا بھلا انجام کیا ہوگا
ابھی اس فکر باہم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں
اداسی کا گھنا سایہ ہے اس معصوم چہرے پر
ہاں اس کی زلف کے خم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں
اندھیری رات میں پھر سے قیامت ڈھا رہا ہے وہ
ندی میں عکس ماہمؔ کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں