ہو چکا کھیل یہ اسباب اٹھاؤ جاؤ
Rafia Zainab (b. 1995)ہو چکا کھیل یہ اسباب اٹھاؤ جاؤ
کوئی امید نہ اب مجھ کو بندھاؤ جاؤ
ہے یہی رسم محبت کہ اچانک بچھڑو
تم مجھے کوئی سبب بھی نہ بتاؤ جاؤ
مجھ میں اب کوئی نئی بات نہیں ملنے کی
اب کہیں اور ہی تم دل کو لگاؤ جاؤ
تم سے پہلے کے بھی عاشق ہوئے اشعار میں دفن
اپنے حصہ کی غزل مجھ سے لکھاؤ جاؤ