Poetry
Poet
Meter
- کتنے آزار مقدر سے لگے رہتے ہیںتیرے بیمار تو بستر سے لگے رہتے ہیںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- کسی بھی خانماں برباد سے نہیں ہوگاہمارا عشق تو فرہاد سے نہیں ہوگاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- کوئی سرمایہ کب رہا محفوظاک فقیری کا راستہ محفوظYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- منزل تھی اک طرف تو سفر دوسری طرفاک سمت پیر اٹھے تھے نظر دوسری طرفYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- یہ مجھ میں جو بے انتہا تنہائی ہےاس دشت کی آب و ہوا تنہائی ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- جب ہم نے چلنا سیکھاہمیں دوڑنا سکھایا گیاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- بنی آدمتمہیں کچھ یاد بھی ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- نماز وحشت قبرسفید خون والے لوگYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- وہ چلی گئیوہ چٹاخ چڑیا چلی گئیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- ہماری نسلدشت نا مراد کیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- آدھے ادھورے خواب رکھیں ہیں آنکھوں کی الماری میںجن کو ہم بھی بھول گئے تھے شاید دنیا داری میںMadhavi Shankar (b. 1981)
- تمہارے بعد آنکھوں کی گلی میںکوئی آتا نہیں ویرانگی میںMadhavi Shankar (b. 1981)
- جذبے تمام دل کے ہی اندر بکھر گئےاظہار کرنا چاہا تھا الفاظ مر گئےMadhavi Shankar (b. 1981)
- جو شخص مجھ میں باقی ہے وہ مادھویؔ نہیںکچھ سال ہو چکے ہیں خبر آج کی نہیںMadhavi Shankar (b. 1981)
- چھپایا کوئی بھی غم تو چھلک گئیں آنکھیںیہ دل تو ہے مرے بس میں مگر نہیں آنکھیںMadhavi Shankar (b. 1981)
- دیوار و در کو اور بھی ویران کر گئےوہ سب بچھڑنے والے بچھڑ کر کدھر گئےMadhavi Shankar (b. 1981)
- مسائل سب اسی نے حل کئے ہیںہمیں جس شخص سے شکوے بڑے ہیںMadhavi Shankar (b. 1981)
- میری باتوں میں چھپے سارے معنی سمجھےکوئی تو ہو جو مجھے میری زبانی سمجھےMadhavi Shankar (b. 1981)
- میرے نظریے سے جو سہی ہے وہ بات کہہ دوں تو میں غلط ہوںقبول کر لوں جو جیسا کہہ دے جو اپنی رکھوں تو میں غلط ہوںMadhavi Shankar (b. 1981)
- ہم غم زدہ ہوئے تو تماشہ کہا گیاآنسو کو صرف پانی کا قطرہ کہا گیاMadhavi Shankar (b. 1981)
- یہ ہجر میری ذات پہ احسان ہی تو ہےیہ رونق حیات ترا دھیان ہی تو ہےMadhavi Shankar (b. 1981)
- ہم سے کہا گیا تھا کہ رانی بنیں گی آپیعنی کہ خود کو پہلے ہی راجا کہا گیاMadhavi Shankar (b. 1981)
- اجالے ملتے بھلا کیسے رات کاٹنے سےکہ تیرگی نہیں گھٹتی چراغ بانٹنے سےEhsaan Ghaman (b. 1981)
- اے میرے شہر عشق ترا کیسا بخت ہےمیں جس کو دیکھتا ہوں وہی لخت لخت ہےEhsaan Ghaman (b. 1981)
- جب پر پرواز میرا آسماں میں آ گیااک پرندہ بھی صف سیارگاں میں آ گیاEhsaan Ghaman (b. 1981)
- کب وہ تنہائی کے آثار سے گھبرائے ہیںلوگ تو رونق بازار سے گھبرائے ہیںEhsaan Ghaman (b. 1981)
- گود میں پنچھی تو شاخوں پہ ثمر رکھتے ہیںیہ شجر ماں کی طرح دست ہنر رکھتے ہیںEhsaan Ghaman (b. 1981)
- ملا ہے کیسا ترے اعتبار کا موسمکہ جیسے چاروں طرف ہے بہار کا موسمEhsaan Ghaman (b. 1981)
- میں حیران تھا منظر کی حیرانی پرپھول کھلے تھے بہتے ہوئے جب پانی پرEhsaan Ghaman (b. 1981)
- یہ جو ہم صورت اشجار میں اگ آتے ہیںتم سمجھتے ہو کہ بیکار میں اگ آتے ہیںEhsaan Ghaman (b. 1981)
- یہ نہ سمجھو کہ چراغوں سے نکل جائیں گےہم اجالے ہیں نئی صبح میں ڈھل جائیں گےEhsaan Ghaman (b. 1981)
- بس تیرے لیے اداس آنکھیںاف مصلحت نا شناس آنکھیںGhalib Ayaz (b. 1981)
- جبین شوق پہ گرد ملال چاہتی ہےمری حیات سفر کا مآل چاہتی ہےGhalib Ayaz (b. 1981)
- جہاں خراب سہی ہم بدن دریدہ سہیتری تلاش میں نکلے ہیں پا بریدہ سہیGhalib Ayaz (b. 1981)
- حسن کے زیر بار ہو کہ نہ ہواب یہ دل بے قرار ہو کہ نہ ہوGhalib Ayaz (b. 1981)
- درد جب دسترس چارہ گراں سے نکلاحرف انکار محبت کی زباں سے نکلاGhalib Ayaz (b. 1981)
- کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہادیار چشم میں وہ انتظار بن کے رہاGhalib Ayaz (b. 1981)
- ہوا کرے گا ہر اک لفظ مشکبار اپناابھی سکوں سے کیے جاؤ انتظار اپناGhalib Ayaz (b. 1981)
- ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئےیہ ریت جیسا بدن آندھیوں کے کام تو آئےGhalib Ayaz (b. 1981)
- ملے تم کہاں کی جدا کر چلےکہانی وہی پھر سنا کر چلےVijay pratap singh (b. 1981)
- ہاتھ کیونکر ملا نہیں پایاجبکہ سوچا تھا جا نہیں پایاVijay pratap singh (b. 1981)
- ہر طرف اک تیرگی سی ہے بتاؤ کیا کریںشکل بھی کچھ آدمی سی ہے بتاؤ کیا کریںVijay pratap singh (b. 1981)
- ہم رہیں یا نہ رہیں پر کچھ گلہ رہ جائے گاایک عاشق دیکھتا سا مبتلا رہ جائے گاVijay pratap singh (b. 1981)
- ایک کشمکش سی چلتی ہےلہروں کے ساتھ مچلتی ہےDeeba Salam (b. 1981)
- آنکھوں کے اضطراب سے ایسے جھڑے ہیں خوابشب کے شجر پہ نیند کی صورت پڑے ہیں خوابNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- آئی ہے ایسے غم میں روانی پرت پرتبہنے لگا ہے آنکھ سے پانی پرت پرتNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- اس مقدمے پر بھی اک مقدمہ ہوگا زور و شور سے ہوگا اور آج ہی ہوگاروز میں بکھرتا ہوں روز ہی بکھرتا ہے میرے گھر کا شیرازہ تم کرو جو اندازہNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- اک یہی اب مرا حوالہ ہےروح زخمی ہے جسم چھالا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہودل کے ہر زخم میں دریاؤں کی گہرائی ہوNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- ایسے وہ داستان کھینچتا ہےہر یقیں پر گمان کھینچتا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)