دیوار و در کو اور بھی ویران کر گئے

Madhavi Shankar (b. 1981)

دیوار و در کو اور بھی ویران کر گئے

وہ سب بچھڑنے والے بچھڑ کر کدھر گئے

ان مشکلوں نے کام یہ آسان کر دیا

کچھ لوگ وقت رہتے ہی دل سے اتر گئے

کانٹا سہی میں شاخ پہ اپنی جگہ تو ہوں

نازک وہ گل تمام ہوا سے بکھر گئے

طاری رہا سکوت مرے گھر میں دیر تک

آوازیں اپنی چھوڑ کے جب دوست گھر گئے

ہر چیز شہر عشق میں مہنگی تھی اس قدر

لوٹ آئے خالی ہاتھ ہی جب جب ادھر گئے

ہم تھے انا پرست سو روکا نہیں اسے

پر اس کے لوٹ آنے کی خواہش میں مر گئے