جب پر پرواز میرا آسماں میں آ گیا

Ehsaan Ghaman (b. 1981)

جب پر پرواز میرا آسماں میں آ گیا

اک پرندہ بھی صف سیارگاں میں آ گیا

میں پس پردہ کوئی گمنام سا کردار تھا

ذکر میرا کیسے تیری داستاں میں آ گیا

یہ ضروری تو نہیں ہجرت پرندے ہی کریں

دھوپ جس کو بھی لگی وہ سائباں میں آ گیا

آسماں پر اک دئے کی لو اچھالی تھی فقط

لوٹ کر سارا اجالا خاکداں میں آ گیا

جب مری عمر رواں انگلی پکڑ کر چل پڑی

دیکھ میں پھر سے ترے وہم و گماں میں آ گیا

میں نے چکھی تھی کسی کے نرم لہجے کی مٹھاس

کیا بتاؤں ذائقہ کیسا زباں میں آ گیا

ایک صحرا چل پڑا احسانؔ میرے ساتھ کیا

وہ بھی میرے حلقۂ آوارگاں میں آ گیا