یہ نہ سمجھو کہ چراغوں سے نکل جائیں گے

Ehsaan Ghaman (b. 1981)

یہ نہ سمجھو کہ چراغوں سے نکل جائیں گے

ہم اجالے ہیں نئی صبح میں ڈھل جائیں گے

یوں نہ بیٹھا کرو فٹ پاتھ پہ میرے یارو

لوگ گزریں گے تو پیروں سے کچل جائیں گے

اتنا برہم نہ ہو اک عکس مکمل کر کے

ہم ترے آئنہ خانے سے نکل جائیں گے

چاند ہو پھول ہوں یا کھلتے ہوئے سائے ہوں

تیرے دیوانے کسی طرح بہل جائیں گے

اے مری چشم حزیں گریۂ پیہم مت کر

اتنا رونے سے تو پتھر بھی پگھل جائیں گے

مجھ سے کیا پوچھتے ہو اشکوں کی قیمت کیا ہے

یہ دئے وہ ہیں ہواؤں میں بھی جل جائیں گے

اتنے لرزاں بھی نہیں شاخ سے ٹوٹے ہوئے ہم

گرتے گرتے بھی کہیں جا کے سنبھل جائیں گے

یہ حسیں لمحے جنہیں تھامے ہوئے ہو احسانؔ

اک نہ اک دن ترے ہاتھوں سے پھسل جائیں گے