ہاتھ کیونکر ملا نہیں پایا

Vijay pratap singh (b. 1981)

ہاتھ کیونکر ملا نہیں پایا

جبکہ سوچا تھا جا نہیں پایا

دیر تک میں کھڑا رہا در پر

تم نے سوچا کہ آ نہیں پایا

رہ گزر میں تو ساتھ ہے جیسے

تجھ کو آخر کہاں نہیں پایا

میں نے تم کو تو پا لیا لیکن

میں نے اب تک خدا نہیں پایا

بہت پایا بھی تو زمانے میں

کچھ بھی تیرے سوا نہیں پایا

میں نے سوچا کہ سب بتاؤں گا

پر ملا تو بتا نہیں پایا

خوب چاہا کہ آزماؤں بھی

پر کبھی آزما نہیں پایا

تیرگی ساتھ ہی رہی ہر دم

شمع کوئی جلا نہیں پایا

ایک ہی بھول تھی مگر اب تک

کس نے کس نے سزا نہیں پایا

ہو گیا ہوں جدا بھلے تم سے

تم کو خود سے جدا نہیں پایا