Poetry
Poet
Meter
- بجھتی مشعل کی التجا جیسےلوگ ہم کو ملے ہوا جیسےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہابدن کا سایہ جو اپنے سروں سے ڈھلتا رہاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- تری تلاش میں ہے سائبان بھی ہم بھیہمارے ساتھ ہماری تھکان بھی ہم بھیNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- تم نے کیا ہے تم نے اشارا بہت غلطدریا بہت درست کنارا بہت غلطNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- تنکے کا ہاتھ آیا سہارا غلط غلطموج طلب نے پایا کنارا غلط غلطNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- تو نہ آئے گا مجھے جب سے یقیں آ گیا ہےآسماں جیسے مرا زیر زمیں آ گیا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- تیری تلاش تیری تمنا تو میں بھی ہوںجیسا ترا خیال ہے ویسا تو میں بھی ہوںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- تیری خواہش نہ جب زیادہ تھیزندگی جیسے بے لبادہ تھیNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- جب سے امید باندھی پتھر پردھول سی جم گئی مقدر پرNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- جلن کے خوف سے باہر نکل سکو تو چلوبچھی ہے دھوپ ہی رستوں میں چل سکو تو چلوNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- جو نقش مٹ چکا ہے بنانا تو ہے نہیںاجڑا دیار ہم نے بسانا تو ہے نہیںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیںموسم ایسے ہوش اڑانے لگتے ہیںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- چراغ ظلمت بے نور میں جلانا تراپسند آیا نہ لوگوں کو آستانہ تراNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- چور تھے لوگ جو سنگینیٔ ہجرت سے یہاںسانس بھی آتا نہیں ان کو سہولت سے یہاںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- دل دھڑکنوں میں جیسے دھڑکتا اسی کا تھاجیسے مرے وجود پہ چہرہ اسی کا تھاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- دور کچھ اہل جنوں کی بے قراری کیجیےہو سکے تو ان کی تھوڑی غم گساری کیجیےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- دیکھ کر اٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی توکاٹ ڈالے گا مرا دست ہنر یعنی توNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- زندگی تیری تمنا میں بسر ہو جائےاور کیا چاہئے جو بار دگر ہو جائےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- سر جھکا کر شاہ کے دربار میںچھید ہم نے سو کیے دستار میںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- صورت گل کبھی زلفوں میں سجا کر لے جائےجب بھی چاہے وہ مجھے اپنا بنا کر لے جائےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- طے ہوا ہے اس طرف کی رہ گزر کا جاگنامیرے پاؤں میں کسی لمبے سفر کا جاگناNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- فلک بنایا گیا ہے زمیں بنائی گئیاماں کی کوئی جگہ ہی نہیں بنائی گئیNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- کرن کرن یہ کسی دیدۂ حسد میں ہےہر اک چراغ ہمارا دھویں کی زد میں ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- کسی کو خار کسی سانس کو ببول کیاجو ہم نے کار محبت کیا فضول کیاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- کہیں جو عزم ذرا حوصلہ نکل آئےفصیل غم سے نیا راستا نکل آئےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- لہو کی آنچ جیسا ہو رہا ہےتمہارا غم ستارہ ہو رہا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- وہ ہیں تیار عمارت کو گرانے والےتو کہاں ہے مری بنیاد اٹھانے والےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- ہر بدن کو اب یہاں ایسا گہن لگنے لگاجس کو دیکھو اب وہی بے پیرہن لگنے لگاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- ہر قدم پاؤں میں ہیں انگارےتیری رائے ہے کیا خدا بارےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مرے سر کےتمام عمر اٹھائے ہیں ناز پتھر کےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- ہزار کوشش پیہم کے باوجود ہمیںتمام عمر کوئی دوست با وفا نہ ملاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- ہم کو یہ ڈر ہے کہ امکان کسی اور کا ہےیعنی وہ شخص نگہبان کسی اور کا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- یہ حادثہ بھی سر رہ گزار ہونا تھاتری تلاش میں مجھ کو غبار ہونا تھاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- یہ کیسا کار دنیا ہو رہا ہےلہو انساں کا سستا ہو رہا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
- اپنی الجھن کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہےچھوڑنا ہے تو بہانے کی ضرورت کیا ہےNadeem Gullani (b. 1982)
- تری قربتیں ہیں سکوں جان جاناںوگرنہ محبت جنوں جان جاناںNadeem Gullani (b. 1982)
- تمہاری محفل سے جا رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنااے میرے یارو لو میں چلا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھناNadeem Gullani (b. 1982)
- تمہیں ہماری محبتوں کے حسین جذبے بلا رہے ہیںجو ہم نے لکھے تھے تم پہ ہمدم وہ سارے نغمے بلا رہے ہیںNadeem Gullani (b. 1982)
- تو سمجھتا ہے گر فضول مجھےکر کے ہمت ذرا سا بھول مجھےNadeem Gullani (b. 1982)
- ساحل پہ تیرے بعد کی ویرانی کھا گئیاترے سمندروں میں تو طغیانی کھا گئیNadeem Gullani (b. 1982)
- فضول وقت سمجھ کے گزار کر مجھ کووہ جا رہا ہے کہیں دور مار کر مجھ کوNadeem Gullani (b. 1982)
- وصل نے جب مری تخلیق کو زنجیر کیاہجر کہنے لگا میں ساتھ ہوں تو لکھتا جاNadeem Gullani (b. 1982)
- ابھی پھر سے پھوٹے گی یادوں کی کونپلابھی رگ سے جاں ہے نکلنے کا موسمNadeem Gullani (b. 1982)
- ایک اک حرف سجا کر تجھے تحریر کیاخون کی ندیاں بہا کر تجھے تحریر کیاNadeem Gullani (b. 1982)
- تجھ کو گر میری ضرورت ہےتو پھر جان حیاتNadeem Gullani (b. 1982)
- کیا خوب ہو گر اس دنیا سےسرحد کا نام ختم ہو جائےNadeem Gullani (b. 1982)
- ملے ہم جو اب کے کئی سال بعدتمہیں بھی ملامت مجھے بھی ملالNadeem Gullani (b. 1982)
- آئے تھے پردیس میں دو چار برسوں کے لئےرو رہے ہیں بیٹھ کر آئندہ نسلوں کے لئےZafar Awan (b. 1982)
- اک سکوں سا دکھتا ہے آپ کے انوپ میںجیسے کوئی بیٹھا ہو سردیوں کی دھوپ میںZafar Awan (b. 1982)
- بغض و حسد کی آگ سے باہر نکال دےمجھ کو شعور و فکر کے رستے پہ ڈال دےZafar Awan (b. 1982)