جو شخص مجھ میں باقی ہے وہ مادھویؔ نہیں

Madhavi Shankar (b. 1981)

جو شخص مجھ میں باقی ہے وہ مادھویؔ نہیں

کچھ سال ہو چکے ہیں خبر آج کی نہیں

تم سے خفا نہیں ہوں یہ عادت ہی ہے میری

جب تک بہت ضروری نہ ہو بولتی نہیں

کہہ تو رہے ہیں بیٹھیے کچھ دیر پاس میں

اور یہ بھی کہہ رہے ہیں جگہ آپ کی نہیں

سادہ مزاج دل پہ چڑھائے تمام رنگ

پھر یہ شکایتیں بھی کہ وہ سادگی نہیں

کیوں رازدار کہہ کے اسے آزمائیں ہم

سو اپنے دل کی بات اسے بھی کہی نہیں

اب بھی نظر بچانے کی پر زور کوششیں

یعنی ابھی میں اس کے لیے اجنبی نہیں