چھپایا کوئی بھی غم تو چھلک گئیں آنکھیں
Madhavi Shankar (b. 1981)چھپایا کوئی بھی غم تو چھلک گئیں آنکھیں
یہ دل تو ہے مرے بس میں مگر نہیں آنکھیں
میں اس کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی کچھ دیر
پھر اک مقام پہ مجھ سے بچھڑ گئیں آنکھیں
سجے ہی رہتے ہیں پلکوں پہ کانچ کے موتی
تمہارے غم نے بنا دیں بہت حسیں آنکھیں
اسی امید پہ رقصاں ہے یہ بدن کب سے
کبھی تو دیکھ لیں مجھ کو وہ دل نشیں آنکھیں