ہر طرف اک تیرگی سی ہے بتاؤ کیا کریں
Vijay pratap singh (b. 1981)ہر طرف اک تیرگی سی ہے بتاؤ کیا کریں
شکل بھی کچھ آدمی سی ہے بتاؤ کیا کریں
وہ گیا ہے تو کفن کے ساتھ ہی پھر آئے گا
موت بھی اب زندگی سی ہے بتاؤ کیا کریں
جانتے ہیں سب مگر کیوں بولتا کوئی نہیں
ہر طرف تو بے خودی سی ہے بتاؤ کیا کریں
آدمی وہ ہے برا اور دل میں اس کے ہے فریب
پر زباں پر سادگی سی ہے بتاؤ کیا کریں
راہ کوئے یار میں بھی سامنا ان سے نہ ہو
اک تمنا آخری سی ہے بتاؤ کیا کریں