ملے تم کہاں کی جدا کر چلے

Vijay pratap singh (b. 1981)

ملے تم کہاں کی جدا کر چلے

کہانی وہی پھر سنا کر چلے

بڑی دیر سے راہ تکتا رہا

ابھی آ رہے ہو کہ آ کر چلے

دکھایا وہی جو نہ دیکھا کبھی

سنایا وہی جو سنا کر چلے

وفا کا ادا حق کیا اس طرح

جفا پر جفا پر جفا کر چلے

خطا کی نہ تم سے تو امید تھی

خطا کیا ہوئی کہ خطا کر چلے

دکھوں کا نہ اپنے تماشہ بنے

سبھی زخم ان سے چھپا کر چلے

چلا ساتھ تیرے تو سوچا نہیں

مجھے تم کہاں لے اڑا کر چلے