Poetry
Poet
Meter
- تجھ سے ہرگز بھی عداوت میں نہیں کر سکتااب کسی اور کی چاہت میں نہیں کر سکتاNadeem Asghar (b. 1980)
- دل کٹورے پر جمی یہ کائی رہ جائے تو پھرگھر کا حصہ مل بھی جائے بھائی رہ جائے تو پھرNadeem Asghar (b. 1980)
- ذرا ٹھہرو مری حالت سنبھل جائے تو پھر جانادل بیتاب تھوڑا سا بہل جائے تو پھر جاناNadeem Asghar (b. 1980)
- زاد رہ مکمل ہےحوصلہ مکمل ہےNadeem Asghar (b. 1980)
- شام ہوئی گھر لوٹی یادیں سورج روپ تراشوں کیسےایک اجالا لاکھ اندھیرے اس کو سب میں بانٹوں کیسےNadeem Asghar (b. 1980)
- فکر معاش اور مری شاعری تمامدونوں ہی آستیں میں پلے زندگی تمامNadeem Asghar (b. 1980)
- یادوں کی دھول سے مرا ماضی اٹا ہوابھولوں تو کس طرح ترا چہرہ رٹا ہواNadeem Asghar (b. 1980)
- تھکے جسموں تھکی روحوں کے سب معنی بدلتے ہیںوصال ہجر کے موسم میں عریانی بدلتے ہیںVarun Gagneja Wahid (b. 1980)
- ٹھہرے جذبات کے دریا کو روانی دے کرہم نے کردار بچایا ہے کہانی دے کرVarun Gagneja Wahid (b. 1980)
- رت جگے میں بھی اک خماری ہےخواب ہلکا ہے نیند بھاری ہےVarun Gagneja Wahid (b. 1980)
- رونق دل نکھار کر رہیےاس کا غم ہے سنوار کر رکھیےVarun Gagneja Wahid (b. 1980)
- سوچتے رہنا شب غم میں اضافت کرناہے دیا بن کے ہواؤں سے محبت کرناVarun Gagneja Wahid (b. 1980)
- قلم سے نکلے یا میرے خیال سے نکلےکوئی جواب تو اب اس سوال سے نکلےVarun Gagneja Wahid (b. 1980)
- کسی بھی رہنمائی کا کوئی دعویٰ نہیں کرتےہماری چاہتوں نے تو بڑے اقرار دیکھے ہیںVarun Gagneja Wahid (b. 1980)
- مل ہی جانی تھی مناسب کوئی قیمت مجھ کوتو نے سمجھا ہے مگر مال غنیمت مجھ کوVarun Gagneja Wahid (b. 1980)
- ہر گھڑی ہر وقت ہی بازار میں رہنا پڑابیچنا تھا خود کو سو اخبار میں رہنا پڑاVarun Gagneja Wahid (b. 1980)
- اداسیوں کا ہمیں آسرا شروع سے ہےیہ عارضہ ہے تو پھر عارضہ شروع سے ہےBabar Ali Asad (b. 1980)
- ایسے حیراں ہیں کہ حیرت کی کوئی حد ہی نہیںعکس ٹوٹا ہے مگر آئنے پہ زد ہی نہیںBabar Ali Asad (b. 1980)
- تری آواز پر رکے ہی نہیںسو کئی واقعے ہوئے ہی نہیںBabar Ali Asad (b. 1980)
- جو اس طرح سے میں خود کو پچھاڑ لیتا ہوںبنا بنایا تعلق بگاڑ لیتا ہوںBabar Ali Asad (b. 1980)
- سانسوں کی روانی میں خلل آنے لگا ہےٹھہرو کہ بچھڑ جانے کا پل آنے لگا ہےBabar Ali Asad (b. 1980)
- کیا ہوگا اندازہ تھوڑی ہوتا ہےہم نے وقت بنایا تھوڑی ہوتا ہےBabar Ali Asad (b. 1980)
- ہم آخری ہیں ہمارے جیسے سو اب ہمارا خلا بنے گانہ میں ہی بار دگر ہوں ممکن نہ تجھ سا ہی دوسرا بنے گاBabar Ali Asad (b. 1980)
- ہوا سے ربط ذرا سوچ کر بنانا تھاہمیں زمیں پہ اترنا تھا گھر بنانا تھاBabar Ali Asad (b. 1980)
- حیوانیت کا زہر دلوں میں اتر گیابستی سے اپنی کون سا موسم گزر گیاNaeem Waqif (b. 1980)
- ہم سے یہ قتل کے منظر نہیں دیکھے جاتےشاہراہوں پہ کٹے سر نہیں دیکھے جاتےNaeem Waqif (b. 1980)
- ہوا جب نا مناسب ہو تو پتے ٹوٹ جاتے ہیںجہاں مطلب پرستی ہو وہ رشتے ٹوٹ جاتے ہیںNaeem Waqif (b. 1980)
- یہ فکر و فن کے فتنے لوگ اب اکثر اٹھاتے ہیںاجالے میں تو سبحہ رات میں ساغر اٹھاتے ہیںNaeem Waqif (b. 1980)
- اک وہ کہ اپنی ضد پہ برابر اڑے رہےاک ہم کہ انتظار میں پہروں کھڑے رہےNaeem Faraz (b. 1980)
- بیوہ ماں کو خون کے آنسو رلاتے ہیں چراغچھوڑ کر بستہ کتابیں جب کماتے ہیں چراغNaeem Faraz (b. 1980)
- ہم وصل کی دن رات دعا مانگ رہے ہیںبیمار محبت ہیں دوا مانگ رہے ہیںNaeem Faraz (b. 1980)
- چاند تارے نہارو ذرا دیر کونام میرا پکارو ذرا دیر کوLokesh Tripathi (b. 1980)
- گھاٹ پر ختم ہر کہانی ہےراکھ ہی آخری نشانی ہےLokesh Tripathi (b. 1980)
- آسماں آتش ظلمات میں جل جائے توخندۂ صبح کی تصویر بدل جائے توYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- اپنے مٹ جانے کا ادراک لئے پھرتا ہوںختم ہوتی ہوئی املاک لئے پھرتا ہوںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- اس کے شوخ لبوں کی لالی ڈس لے گیناگن جیسی آنکھوں والی ڈس لے گیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- اک لمحہ جو فرقت کے سوا اور بھی کچھ تھااک غم جو قیامت کے سوا اور بھی کچھ تھاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- اور پھر چہرۂ خاشاک بدل جائے گاایک دن موسم سفاک بدل جائے گاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- پہلے بے یار و مددگار کیا جاتا ہےپھر ہمیں حاشیہ بردار کیا جاتا ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- تری یادوں کے چراغوں میں یہ جلتی ہوئی راتمری آنکھوں سے چھلکتی رہی ڈھلتی ہوئی راتYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- تمہاری یاد میں کچھ یوں نئے موسم بناتا ہوںمیں صحرائے جنوں میں ریت سے شبنم بناتا ہوںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- تیری سانسوں کا زیر و بم جانمتوڑ دے صبر کا بھرم جانمYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- حیرت مآب ہوں کہ یہ کیا دیکھتا ہوں میںاے صاحب جمال ترا آئنہ ہوں میںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- درد کے سامنے دولت نہیں دیکھی جاتیجنگ میں صرف غنیمت نہیں دیکھی جاتیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- دل سے نکل نہ پائے گی موج ہوس کہ بساس طرح کھینچتی ہے یہ تار نفس کہ بسYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- دل کو کتنا سمجھایا ہے سب مایا ہےکون کسی کا ہو پایا ہے سب مایا ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- رنگ صحبت اڑا جبینوں سےجب مراسم ہوئے مشینوں سےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- سانپ جب آستین سے نکلاوہم کوئی یقین سے نکلاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- شمع امید جلاتے ہوئے مر جائیں گےدشت ظلمات بساتے ہوئے مر جائیں گےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- فلک پہ چاند ستارے کچھ اور کہتے ہیںمگر زمیں کے نظارے کچھ اور کہتے ہیںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)