یہ ہجر میری ذات پہ احسان ہی تو ہے

Madhavi Shankar (b. 1981)

یہ ہجر میری ذات پہ احسان ہی تو ہے

یہ رونق حیات ترا دھیان ہی تو ہے

کھلنے لگیں گے پھر تری یادوں کے تازہ پھول

اجڑا نہیں ہے دل مرا ویران ہی تو ہے

وہ چاہے مجھ کو دل میں رکھے یا نکال دے

مہمان ہر لحاظ سے مہمان ہی تو ہے

بیٹھی رہو یقین کہ کشتی میں مادھویؔ

اک روز تھم ہی جائے گا طوفان ہی تو ہے