ہم رہیں یا نہ رہیں پر کچھ گلہ رہ جائے گا

Vijay pratap singh (b. 1981)

ہم رہیں یا نہ رہیں پر کچھ گلہ رہ جائے گا

ایک عاشق دیکھتا سا مبتلا رہ جائے گا

میں کھڑا رہ جاؤں گا بس آستاں پر سوچتا

پھول بھی گلدان میں ہی بس کھلا رہ جائے گا

در بدر ہو کر یہاں سے جب چلا جاؤں گا میں

تب مجھے پھر کھوجتا سا یہ جہاں رہ جائے گا

بس ندی کے پاس تک ہی لوگ لے کر آئیں گے

اس ندی کے گھاٹ پر ہی قافلہ رہ جائے گا

ذکر بھی ہوگا نہیں تیرے فسانے میں ترا

اس فسانے سے نکل کر تو نہاں رہ جائے گا