ایک کشمکش سی چلتی ہے

Deeba Salam (b. 1981)

ایک کشمکش سی چلتی ہے

لہروں کے ساتھ مچلتی ہے

کبھی ساحل سے ٹکراتی ہیں

کبھی سمٹ سی جاتی ہیں

اوس کی بوندیں اوشن میں

طوفانوں میں غراتی ہیں

پھر موجوں سنگ گنگناتی ہیں

اٹکھیلیاں وہ کرتی ہیں

ساگر دھارا سنگ گزرتی ہیں

اوس کی بوندیں اوشن میں

کبھی ہائی ٹائیڈ کبھی لو ٹائیڈ میں

اکثر یوں ہی فل مون لائٹ میں

آسماں کی جانب اچھلتی ہیں

گرتی اور سنبھلتی ہیں

اوس کی بوندیں اوشن میں

آفتاب کہتا ہے آ جا

فضا کہتی سما جا

ساگر کہتا ہے نہ جا

زمیں بھی جکڑے جاتی ہے

ایسے ہی لہراتی ہیں

بہتی چلی جاتی ہیں

اوس کی بوندیں اوشن میں