آدھے ادھورے خواب رکھیں ہیں آنکھوں کی الماری میں
Madhavi Shankar (b. 1981)آدھے ادھورے خواب رکھیں ہیں آنکھوں کی الماری میں
جن کو ہم بھی بھول گئے تھے شاید دنیا داری میں
مانا ہر اک شے روٹھی ہے سب نے ہاتھ چھڑائے ہیں
یہ بھی نہیں کم آپ میسر ہیں ایسی دشواری میں
جن کو بھرتے بھرتے ہی میں نے اک عمر گنوا دی ہے
مجھ کو محبت میں وہ زخم ملے تھے پہلی باری میں
اس کی دید کو جھکتی پلکیں اس انداز سے اٹھتی ہیں
جیسے دو نازک کلیاں ہوں کھلنے کی تیاری میں
اس کو دوا سے بھی پہلے شاید امید کی حاجت ہے
جو بھیتر سے ٹوٹ چکا ہے اک لمبی بیماری میں