Poetry
- آنگن کے درختوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےدنیا میں بزرگوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےAalam Nizami (b. 1984)
- اپنی خودی کو تم سر بازار بیچ کرزندہ ہو کیسے دولت کردار بیچ کرAalam Nizami (b. 1984)
- ادب کو اتنا گرا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گاسخن کی عظمت گھٹا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گاAalam Nizami (b. 1984)
- اس سے پہلے مری خواہش مجھے رسوا کر دےعزت نفس کو خالق مرے زندہ کر دےAalam Nizami (b. 1984)
- اس لئے تو بجھا نہیں ہوں میںبجھنے والا دیا نہیں ہوں میںAalam Nizami (b. 1984)
- ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھےجو بھی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں مجھےAalam Nizami (b. 1984)
- اے اندھیرے روشنی کی زد میں آنا چھوڑ دےآفتاب وقت پر انگلی اٹھانا چھوڑ دےAalam Nizami (b. 1984)
- بیاں غیروں سے اپنا غم کریں کیانمک کو زخم کا مرہم کریں کیاAalam Nizami (b. 1984)
- بے وفا اب نہ محبت کی دہائی دوں گازندگی بھر میں تجھے زخم جدائی دوں گاAalam Nizami (b. 1984)
- ترے دماغ سے سارا فتور نکلے گامری وفا کا نتیجہ ضرور نکلے گاAalam Nizami (b. 1984)
- تمام فتنوں سے خود کو بچا لیا میں نےمنافقین سے پیچھا چھڑا لیا میں نےAalam Nizami (b. 1984)
- جانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتیدوست روز ملتے ہیں دوستی نہیں ملتیAalam Nizami (b. 1984)
- جس طرح بچے بزرگوں کے چرن چومتے ہیںہم محبت سے محبت کا بدن چومتے ہیںAalam Nizami (b. 1984)
- جس کی خاطر سارا زمانہ چھوڑ دیااس نے میرا فون اٹھانا چھوڑ دیاAalam Nizami (b. 1984)
- چاندنی رات ہے میں ہوں مری تنہائی ہےیاد ایسے میں تری دل میں چلی آئی ہےAalam Nizami (b. 1984)
- چاہتا جو بھی ہے وہ کہہ کے گزر جاتا ہےدل حساس اس احساس سے مر جاتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
- حسین خواب دکھایا دکھا کے چھوڑ دیاکسی نے اپنا بنایا بنا کے چھوڑ دیاAalam Nizami (b. 1984)
- خانۂ دل کو سجاؤ گے تو یاد آؤں گاپیار کی شمع جلاؤ گے تو یاد آؤں گاAalam Nizami (b. 1984)
- خودداریوں کی حد سے نکلنا پڑا مجھےماحول کی چتاؤں میں جلنا پڑا مجھےAalam Nizami (b. 1984)
- دانستہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرتافنکار ہوں توہین محبت نہیں کرتاAalam Nizami (b. 1984)
- دل کیا دست ستم گر کے حوالے ہم نےآئنہ کر دیا پتھر کے حوالے ہم نےAalam Nizami (b. 1984)
- راکھ ماضی کی کریدو گے تو کیا پاؤ گےکوئی چنگاری نکل آئی تو جل جاؤ گےAalam Nizami (b. 1984)
- رنگ ایثار کے چہرے کا نکھرتا کیسےزخم احباب نہ دیتے تو سنورتا کیسےAalam Nizami (b. 1984)
- زمانے پر عیاں میرا ہنر ہونے نہیں دیتانہ جانے کیوں مجھے وہ معتبر ہونے نہیں دیتاAalam Nizami (b. 1984)
- سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتیمحسوس تو ہوتی ہے دکھائی نہیں دیتیAalam Nizami (b. 1984)
- شرافت چھین لیتی ہے صداقت چھین لیتی ہےقلم کاروں سے خودداری ضرورت چھین لیتی ہےAalam Nizami (b. 1984)
- عشق میرا ہے اگر رات کی رانی کی طرححسن اس کا بھی ہے پھولوں کی جوانی کی طرحAalam Nizami (b. 1984)
- عشق میں جاننا ضروری ہےکیا نہیں اور کیا ضروری ہےAalam Nizami (b. 1984)
- فرش مخمل پہ کبھی نیند نہ آئی مجھ کواتنی راس آئی مرے گھر کی چٹائی مجھ کوAalam Nizami (b. 1984)
- کبھی شفق تو کبھی گل کبھی جناں مہکےتمہارے نقش قدم بھی کہاں کہاں مہکےAalam Nizami (b. 1984)
- کسی کے ذہن میں کیا ہے نظر نہیں آتامزاج پڑھنے کا سب کو ہنر نہیں آتاAalam Nizami (b. 1984)
- کہاں تمام ابھی کربلا کا منظر ہےہمارے ساتھ نئے حوصلوں کا لشکر ہےAalam Nizami (b. 1984)
- کیا بتاؤں کسی کو ہے کیا دوستیہے غم زندگی کی دوا دوستیAalam Nizami (b. 1984)
- کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والےاور بھی ہیں مجھے سینے سے لگانے والےAalam Nizami (b. 1984)
- کیسے کہہ دوں کہیں اعلان نہیں کرتا ہےوہ بھی خاموشی سے احسان نہیں کرتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
- کیوں ہو مجھ سے خفا کہو تو سہیکیا ہے میری خطا کہو تو سہیAalam Nizami (b. 1984)
- گھر میں آرام کا سایہ نہیں رہنے دیتیاب تو تنہائی بھی تنہا نہیں رہنے دیتیAalam Nizami (b. 1984)
- مادر ہند کی عظمت کا پتہ چلتا ہےحسن کشمیر سے جنت کا پتہ چلتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
- موسم وقت بدلنا ہے بدل جائے گااژدہا رات کا سورج کو نگل جائے گاAalam Nizami (b. 1984)
- میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرےکہہ دو سورج سے نکلنے کا ارادہ نہ کرےAalam Nizami (b. 1984)
- میں سمجھ رہا تھا کہ وقت نے ترا نام دل سے مٹا دیاشب غم مگر تری یاد نے مجھے آج پھر سے رلا دیاAalam Nizami (b. 1984)
- نقش ہستی مٹا بھی دیتا ہےحادثہ حوصلہ بھی دیتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
- نور پیہم سفر میں رہتا ہےاس کا چہرا نظر میں رہتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
- وہ تصور میں تو آتا ہے چلا جاتا ہےدھڑکنیں دل کی بڑھاتا ہے چلا جاتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
- ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتایہاں کسی سے کوئی بے سبب نہیں ملتاAalam Nizami (b. 1984)
- ہیں الجھنیں تمام مری زندگی کے ساتھانصاف کر رہا ہوں مگر شاعری کے ساتھAalam Nizami (b. 1984)
- یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہےخود سے مل کر ہمیں راحت بھی نہیں ملتی ہےAalam Nizami (b. 1984)