Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنگن کے درختوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےدنیا میں بزرگوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےAalam Nizami (b. 1984)
  2. اپنی خودی کو تم سر بازار بیچ کرزندہ ہو کیسے دولت کردار بیچ کرAalam Nizami (b. 1984)
  3. ادب کو اتنا گرا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گاسخن کی عظمت گھٹا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گاAalam Nizami (b. 1984)
  4. اس سے پہلے مری خواہش مجھے رسوا کر دےعزت نفس کو خالق مرے زندہ کر دےAalam Nizami (b. 1984)
  5. اس لئے تو بجھا نہیں ہوں میںبجھنے والا دیا نہیں ہوں میںAalam Nizami (b. 1984)
  6. ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھےجو بھی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں مجھےAalam Nizami (b. 1984)
  7. اے اندھیرے روشنی کی زد میں آنا چھوڑ دےآفتاب وقت پر انگلی اٹھانا چھوڑ دےAalam Nizami (b. 1984)
  8. بیاں غیروں سے اپنا غم کریں کیانمک کو زخم کا مرہم کریں کیاAalam Nizami (b. 1984)
  9. بے وفا اب نہ محبت کی دہائی دوں گازندگی بھر میں تجھے زخم جدائی دوں گاAalam Nizami (b. 1984)
  10. ترے دماغ سے سارا فتور نکلے گامری وفا کا نتیجہ ضرور نکلے گاAalam Nizami (b. 1984)
  11. تمام فتنوں سے خود کو بچا لیا میں نےمنافقین سے پیچھا چھڑا لیا میں نےAalam Nizami (b. 1984)
  12. جانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتیدوست روز ملتے ہیں دوستی نہیں ملتیAalam Nizami (b. 1984)
  13. جس طرح بچے بزرگوں کے چرن چومتے ہیںہم محبت سے محبت کا بدن چومتے ہیںAalam Nizami (b. 1984)
  14. جس کی خاطر سارا زمانہ چھوڑ دیااس نے میرا فون اٹھانا چھوڑ دیاAalam Nizami (b. 1984)
  15. چاندنی رات ہے میں ہوں مری تنہائی ہےیاد ایسے میں تری دل میں چلی آئی ہےAalam Nizami (b. 1984)
  16. چاہتا جو بھی ہے وہ کہہ کے گزر جاتا ہےدل حساس اس احساس سے مر جاتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  17. حسین خواب دکھایا دکھا کے چھوڑ دیاکسی نے اپنا بنایا بنا کے چھوڑ دیاAalam Nizami (b. 1984)
  18. خانۂ دل کو سجاؤ گے تو یاد آؤں گاپیار کی شمع جلاؤ گے تو یاد آؤں گاAalam Nizami (b. 1984)
  19. خودداریوں کی حد سے نکلنا پڑا مجھےماحول کی چتاؤں میں جلنا پڑا مجھےAalam Nizami (b. 1984)
  20. دانستہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرتافنکار ہوں توہین محبت نہیں کرتاAalam Nizami (b. 1984)
  21. دل کیا دست ستم گر کے حوالے ہم نےآئنہ کر دیا پتھر کے حوالے ہم نےAalam Nizami (b. 1984)
  22. راکھ ماضی کی کریدو گے تو کیا پاؤ گےکوئی چنگاری نکل آئی تو جل جاؤ گےAalam Nizami (b. 1984)
  23. رنگ ایثار کے چہرے کا نکھرتا کیسےزخم احباب نہ دیتے تو سنورتا کیسےAalam Nizami (b. 1984)
  24. زمانے پر عیاں میرا ہنر ہونے نہیں دیتانہ جانے کیوں مجھے وہ معتبر ہونے نہیں دیتاAalam Nizami (b. 1984)
  25. سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتیمحسوس تو ہوتی ہے دکھائی نہیں دیتیAalam Nizami (b. 1984)
  26. شرافت چھین لیتی ہے صداقت چھین لیتی ہےقلم کاروں سے خودداری ضرورت چھین لیتی ہےAalam Nizami (b. 1984)
  27. عشق میرا ہے اگر رات کی رانی کی طرححسن اس کا بھی ہے پھولوں کی جوانی کی طرحAalam Nizami (b. 1984)
  28. عشق میں جاننا ضروری ہےکیا نہیں اور کیا ضروری ہےAalam Nizami (b. 1984)
  29. فرش مخمل پہ کبھی نیند نہ آئی مجھ کواتنی راس آئی مرے گھر کی چٹائی مجھ کوAalam Nizami (b. 1984)
  30. کبھی شفق تو کبھی گل کبھی جناں مہکےتمہارے نقش قدم بھی کہاں کہاں مہکےAalam Nizami (b. 1984)
  31. کسی کے ذہن میں کیا ہے نظر نہیں آتامزاج پڑھنے کا سب کو ہنر نہیں آتاAalam Nizami (b. 1984)
  32. کہاں تمام ابھی کربلا کا منظر ہےہمارے ساتھ نئے حوصلوں کا لشکر ہےAalam Nizami (b. 1984)
  33. کیا بتاؤں کسی کو ہے کیا دوستیہے غم زندگی کی دوا دوستیAalam Nizami (b. 1984)
  34. کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والےاور بھی ہیں مجھے سینے سے لگانے والےAalam Nizami (b. 1984)
  35. کیسے کہہ دوں کہیں اعلان نہیں کرتا ہےوہ بھی خاموشی سے احسان نہیں کرتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  36. کیوں ہو مجھ سے خفا کہو تو سہیکیا ہے میری خطا کہو تو سہیAalam Nizami (b. 1984)
  37. گھر میں آرام کا سایہ نہیں رہنے دیتیاب تو تنہائی بھی تنہا نہیں رہنے دیتیAalam Nizami (b. 1984)
  38. مادر ہند کی عظمت کا پتہ چلتا ہےحسن کشمیر سے جنت کا پتہ چلتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  39. موسم وقت بدلنا ہے بدل جائے گااژدہا رات کا سورج کو نگل جائے گاAalam Nizami (b. 1984)
  40. میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرےکہہ دو سورج سے نکلنے کا ارادہ نہ کرےAalam Nizami (b. 1984)
  41. میں سمجھ رہا تھا کہ وقت نے ترا نام دل سے مٹا دیاشب غم مگر تری یاد نے مجھے آج پھر سے رلا دیاAalam Nizami (b. 1984)
  42. نقش ہستی مٹا بھی دیتا ہےحادثہ حوصلہ بھی دیتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  43. نور پیہم سفر میں رہتا ہےاس کا چہرا نظر میں رہتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  44. وہ تصور میں تو آتا ہے چلا جاتا ہےدھڑکنیں دل کی بڑھاتا ہے چلا جاتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  45. ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتایہاں کسی سے کوئی بے سبب نہیں ملتاAalam Nizami (b. 1984)
  46. ہیں الجھنیں تمام مری زندگی کے ساتھانصاف کر رہا ہوں مگر شاعری کے ساتھAalam Nizami (b. 1984)
  47. یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہےخود سے مل کر ہمیں راحت بھی نہیں ملتی ہےAalam Nizami (b. 1984)