Poetry
Poet
Meter
- کیا بتائیں کیا کمایا عشق میںدرد ہے دل میں نہ آنکھوں میں نمیHafeez Jauhar
- ہاتھ میں ہے اک پرانی ڈائریکھولنے بیٹھا ہوں گرہیں یاد کیHafeez Jauhar
- یہ کیسے نمو کے سلسلے ہیںشاخوں پہ گلاب جل بجھے ہیںHafeez Jauhar
- کیا ان کو دل کا حال سنانے سے فائدہہوگا تو ہوگا نوٹ دکھانے سے فائدہحاجی لق لق
- بہشت بریںحاجی لق لق
- مقصد حیاتحاجی لق لق
- آمدنی اور خرچحاجی لق لق
- نقش پائے یار کو چوموں تو آخر کس طرحہو برا پتلون کا مجھ سے نہ بیٹھا جائے ہےحاجی لق لق
- آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیںسامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیںحیرت الہ آبادی
- بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئےزلفیں چھوئیں بلا میں گرفتار ہو گئےحیرت الہ آبادی
- سنا ہے زخمی تیغ نگہ کا دم نکلتا ہےترا ارمان لے اے قاتل عالم نکلتا ہےحیرت الہ آبادی
- کسی محاذ پہ وہ بولنے نہیں دیتاضرورتاً بھی زباں کھولنے نہیں دیتاحیرت الہ آبادی
- یہ محو ہوئے دیکھ کے بے ساختہ پن کوآئینے میں خود چوم لیا اپنے دہن کوحیرت الہ آبادی
- در پردہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں کیسےگر کیجے گلہ صاف مکر جاتے ہیں کیسےکرامت علی شہیدی
- مشام بلبل میں رشک گل کی ہنوز بو بھی نہیں گئی ہےابھی وہ نام خدا ہے غنچہ نسیم چھو بھی نہیں گئی ہےکرامت علی شہیدی
- منزل سفر عشق کی زنہار نہ ٹوٹےجب تک کمر قافلہ سالار نہ ٹوٹےکرامت علی شہیدی
- ہزار مرتبہ دیکھا ستم جدائی کاہنوز حوصلہ باقی ہے آشنائی کاکرامت علی شہیدی
- جی چاہے گا جس کو اسے چاہا نہ کریں گےہم عشق و ہوس کو کبھی یکجا نہ کریں گےکرامت علی شہیدی
- قسمت عجیب کھیل دکھاتی چلی گئیجو ہنس رہے تھے ان کو رلاتی چلی گئیLata Haya
- میں پی رہی ہوں کہ زہراب ہیں مرے آنسوتری نظر میں فقط آب ہیں مرے آنسوLata Haya
- میں غزل ہوں مجھے جب آپ سنا کرتے ہیںچند لمحے مرا غم بانٹ لیا کرتے ہیںLata Haya
- میں نے ویرانے کو گلزار بنا رکھا ہےکیا برا ہے جو حقیقت کو چھپا رکھا ہےLata Haya
- ہر قدم حادثے ہر نفس تلخیاںزندگی برق طوفاں خزاں آندھیاںLata Haya
- بھولنا چاہتا کہاں ہوں میںدرد ہے اور بس رواں ہوں میںMadhukar Jha Khuddar
- بے زبانوں کی کہانی کی زباں ہوتے رہےہم تو یارو بارہا اشک رواں ہوتے رہےMadhukar Jha Khuddar
- کبھی کچھ کہیں یہ اجازت ہی دیجےنہ دیجے محبت عداوت ہی دیجےMadhukar Jha Khuddar
- کبھی ہم ان کی سنتے ہیں کبھی اپنی سناتے ہیںاسی دور محبت میں یہ دن یوں بیت جاتے ہیںMadhukar Jha Khuddar
- نارسائی مقام ہوتی ہےنیم شب جاں تمام ہوتی ہےMadhukar Jha Khuddar
- سامنے سے جو وہ نگار گیادل پہ تیر نگاہ مار گیامیر شیر علی افسوس
- سمند گرم جو یاں اس سوار کا پہنچاغبار تا فلک اس خاکسار کا پہنچامیر شیر علی افسوس
- گل بھی خوش طلعت ہے پر اے ماہ تو کچھ اور ہےباس اس میں اور کچھ ہے تجھ میں بو کچھ اور ہےمیر شیر علی افسوس
- مت بیٹھ وقت نزع تو یاں اے حسیں بہتالفت نہ کر تو آہ دم واپسیں بہتمیر شیر علی افسوس
- نہ ساقی ہے نہ مینا ہے نہ بر میں یار جانی ہےحقیقت میں نہیں جیتے بہ صورت زندگانی ہےمیر شیر علی افسوس
- آہ کب لب پر نہیں ہے داغ کب دل میں نہیںکون سی شب ہے کہ گرمی اپنی محفل میں نہیںمظفر علی اسیر
- جانے لگے ہیں اب دم سرد آسماں تلکٹھنڈی سڑک بنی ہے یہاں سے وہاں تلکمظفر علی اسیر
- کس طرح آئے تری بزم طرب میں آئنہہے نظر بند آج کل شہر حلب میں آئنہمظفر علی اسیر
- باغ میں پھول کھلے موسم سودا آیاگرم بازار ہوا وقت تماشہ آیامظفر علی اسیر
- حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکاتیغ کی آنچ سے گھر میں مرے کھانا پکامظفر علی اسیر
- جب شام کے سائے ڈھل جائیںجب شمعیں فلک کی جل جائیںQaisar Ziya Qaisar
- کیا کہوں زخم کتنا گہرا ہےدور تک صرف محض صحرا ہےQaisar Ziya Qaisar
- مری زلفیں نہیں کالی گھٹا ہیںمری پیشانی ہے مہتاب جیسیQaisar Ziya Qaisar
- میں اس کو تکتا رہتا ہوںجو فرخ زاد کی غزلوںQaisar Ziya Qaisar
- یہ تیرے ہجر کی آندھیکہاں لے آئی ہے مجھ کوQaisar Ziya Qaisar
- اتنے چہرے ہیں سبھی پر پیار روشن ہےکیا خبر چہروں کے پیچھے کون دشمن ہےRaees Faraz
- اجلے پروں میں کون چھپا ہے پتا نہیںماتھے پہ تو کسی کے فریبی لکھا نہیںRaees Faraz
- پکار لیں گے اس کو اتنا آسرا تو چاہئےدعا خلاف وضع ہے مگر خدا تو چاہئےRaees Faraz
- تم کہہ رہے ہو نیلے خلا میں رنگوں کا جال پھیلا ہےمیں پوچھتا ہوں رنگوں کے پار پانی کا رنگ کیسا ہےRaees Faraz
- ہاتھ سے آخر چھوٹ پڑا پتھر جو اٹھایا تھاکیا کرتا مجرم بھی تو خود اپنا سایا تھاRaees Faraz
- اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیںبگاڑیں گے ہزاروں گھر کہ وہ بن ٹھن کے بیٹھے ہیںRafi Ahmad Aali
- جب نقاب چہرۂ قاتل کھلاتب دل وابستۂ بسمل کھلاRafi Ahmad Aali