جب نقاب چہرۂ قاتل کھلا
Rafi Ahmad Aaliجب نقاب چہرۂ قاتل کھلا
تب دل وابستۂ بسمل کھلا
جب چڑھایا دار پر منصور کو
تب معمائے حق و باطل کھلا
جانے والوں پر عدم کے کیا بنی
کچھ نہ حال سختیٔ منزل کھلا
میری خاموشی کا اک چرچا ہوا
بند لب رکھنے سے راز دل کھلا
حسرت دیدار قاتل دیکھنا
رہ گیا ہے دیدۂ بسمل کھلا
ظرف عالیؔ دیکھ اے پیر مغاں
پی گیا خم اور نہ راز دل کھلا