اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیں

Rafi Ahmad Aali

اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیں

بگاڑیں گے ہزاروں گھر کہ وہ بن ٹھن کے بیٹھے ہیں

ہمارے قتل سے ناحق ہیں نادم اپنے گھر جائیں

جھکائے سر عبث اب سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

اٹھایا ہجر میں طوفان کیا کیا چشم گریاں نے

یہ دیکھو بام و در کیسے مرے مسکن کے بیٹھے ہیں

قسم کھائی تھی ملنے کی عدو کے کچھ تو شرماؤ

یہ تم بیٹھے ہو یا پہلو میں ہم دشمن کے بیٹھے ہیں

نکلنے ہی نہیں دیتے ہیں کانٹے دشت وحشت سے

پکڑنے والے ہر جانب مرے دامن کے بیٹھے ہیں