بھولنا چاہتا کہاں ہوں میں

Madhukar Jha Khuddar

بھولنا چاہتا کہاں ہوں میں

درد ہے اور بس رواں ہوں میں

آج کچھ یاد آ رہی ہو یوں

تم زمیں اور آسماں ہوں میں

کیا ہوا جو حساب مانگا ہے

کیا غموں کی کوئی دکاں ہوں میں

روشنی کچھ چراغ کی لاؤ

جس جگہ دفن ہوں نہاں ہوں میں

دن دکھائے زمانے نے ایسے

اب نہیں میر کارواں ہوں میں

سادگی ہے ادا میں اس کی جو

عشق میں یار رائیگاں ہوں میں

ذات خوددارؔ کی دکھی جب جب

شاعری کا حسیں سماں ہوں میں