کیا کہوں زخم کتنا گہرا ہے
Qaisar Ziya Qaisarکیا کہوں زخم کتنا گہرا ہے
دور تک صرف محض صحرا ہے
ہر قدم پر بگولے رقصاں ہیں
راہ میں ہر سو شعلے رقصاں ہیں
نہ شجر ہے نہ کوئی سایہ ہے
کوئی چشمہ نہ کوئی دریا ہے
دھوپ سر پر برستی رہتی ہے
پیاس لب پر لرزتی رہتی ہے
تیرگی چشم تر پہ طاری ہے
اور سفر ہے کہ پھر بھی جاری ہے