کبھی ہم ان کی سنتے ہیں کبھی اپنی سناتے ہیں
Madhukar Jha Khuddarکبھی ہم ان کی سنتے ہیں کبھی اپنی سناتے ہیں
اسی دور محبت میں یہ دن یوں بیت جاتے ہیں
کہا تھا جو کبھی تم نے چلو دیکھیں نظارے ہم
اسی قاتل ادا سے اب ہمیں کو کیوں ستاتے ہیں
زمانہ پوچھے گا تمہارے خستہ حال کا بیورا
ہماری بات تو چھوڑو ہمیں یوں ہی بلاتے ہیں
پتہ پوچھے ہمارا جو کہو اب کیا بتائیں ہم
رقیبوں کا پتہ بھی تو نہیں اب ہم بتاتے ہیں
بھلے خوددارؔ کہتا ہو خطا واری نہیں کی ہے
اسے بولو فقیروں میں اسے مرشد بتاتے ہیں