میں غزل ہوں مجھے جب آپ سنا کرتے ہیں
Lata Hayaمیں غزل ہوں مجھے جب آپ سنا کرتے ہیں
چند لمحے مرا غم بانٹ لیا کرتے ہیں
جب وفا کرتے ہیں ہم صرف وفا کرتے ہیں
اور جفا کرتے ہیں جب صرف جفا کرتے ہیں
لوگ چاہت کی کتابوں میں چھپا کر چہرے
صرف جسموں کی ہی تحریر پڑھا کرتے ہیں
لوگ نفرت کی فضاؤں میں بھی جی لیتے ہیں
ہم محبت کی ہوا سے بھی ڈرا کرتے ہیں
اپنے بچوں کے لئے لاکھ غریبی ہو مگر
ماں کے پلو میں کئی سکے ملا کرتے ہیں
جو کبھی خوش نہ ہوئے دیکھ کے شہرت میری
میرے اپنے ہیں مجھے پیار کیا کرتے ہیں
جن کے جذبات ہوں نقصان نفع کی زد میں
ان کے دل میں کئی بازار سجا کرتے ہیں
فکر و احساس پہ پردہ ہے حیاؔ کا ورنہ
ہم غلط بات نہ سنتے نہ کہا کرتے ہیں