کیا بتائیں کیا کمایا عشق میں

Hafeez Jauhar

کیا بتائیں کیا کمایا عشق میں

درد ہے دل میں نہ آنکھوں میں نمی

قرب میں جس کے گزارے روز و شب

اجنبی ہے اتنے برسوں بعد بھی

تھا مرے دل میں کبھی اس کا مکاں

میں نے جس کو دور سے آواز دی

اب تو وہ موسم پرانے ہو گئے

اب تو وہ باتیں ہیں ساری خواب کی

ربط جوہرؔ ان سے اتنا رہ گیا

فون کی گھنٹی بجی بجتی رہی