ہاتھ میں ہے اک پرانی ڈائری

Hafeez Jauhar

ہاتھ میں ہے اک پرانی ڈائری

کھولنے بیٹھا ہوں گرہیں یاد کی

اس سے وعدہ ہے ملیں گے شام کو

شام کتنی دیر کے بعد آئے گی

ہم نے سوچا تھا چلیں گے سیر کو

راستوں نے پھر سفیدی اوڑھ لی

گرم کمروں سے نکلتا کون ہے

محفلیں اجڑی ہوئی ہیں شہر کی

چبھ رہی ہے میری آنکھوں میں بہت

چار سو پھیلی ہوئی بے منظری

پیار کی خوشبو سے خالی نسبتیں

رابطے سب دل کے رنگوں سے تہی

اک تعلق بنتے بنتے رہ گیا

کھلتے کھلتے اک کلی مرجھا گئی