یہ تیرے ہجر کی آندھی
Qaisar Ziya Qaisarیہ تیرے ہجر کی آندھی
کہاں لے آئی ہے مجھ کو
یہاں ہر سمت اک سورج
سوا نیزے پہ جلتا ہے
نہ سر سے دھوپ اترتی ہے
نہ سایہ کوئی ڈھلتا ہے
ہوائے شام چلتی ہے
نہ کوئی شمع جلتی ہے
فلک پر نجم آتے ہیں
نہ تو مہتاب آتا ہے
کسی کی آنکھ سوتی ہے
نہ کوئی خواب آتا ہے