تم کہہ رہے ہو نیلے خلا میں رنگوں کا جال پھیلا ہے

Raees Faraz

تم کہہ رہے ہو نیلے خلا میں رنگوں کا جال پھیلا ہے

میں پوچھتا ہوں رنگوں کے پار پانی کا رنگ کیسا ہے

مجرم ہے دل کہ معمولی آہٹوں پر بھی چونک اٹھتا ہے

کمرے میں ورنہ کوئی نہیں یہ پاگل ہوا کا جھونکا ہے

میں سخت راستوں پر چلا ہوں میرے نشاں نہ ڈھونڈو تم

پتھر پہ خود ہی چل کر بتاؤ کیا کوئی نقش بنتا ہے

کتنے شگفتہ چہروں میں لوگ خود کو چھپائے پھرتے ہیں

پر کیا بتاؤں چہروں کے پار مجھ کو دکھائی دیتا ہے

تم آج ساری سمتوں میں برف سے میرا نام لکھتے ہو

تم جانتے ہو موسم کے ساتھ اس برف کو پگھلنا ہے

دھندلی اداس گلیوں میں لوگ سائے کی طرح چلتے ہیں

منظر اٹھاؤ پلکیں سجاؤ سب کچھ تو خواب جیسا ہے