مری زلفیں نہیں کالی گھٹا ہیں
Qaisar Ziya Qaisarمری زلفیں نہیں کالی گھٹا ہیں
مری پیشانی ہے مہتاب جیسی
مری آنکھیں کنول کی پنکھڑی ہیں
مرے لب ہیں گلابوں سے مشابہ
مرے گالوں میں ہے لالی شفق کی
مری گردن صراحی دار دیکھو
مری باہیں ہیں مثل شاخ صندل
بدن میرا ہے لالہ زار دیکھو
اداؤں میں مری جادوگری ہے
مری ہستی مکمل شاعری ہے
ہوس کے مارو میں بازار میں ہوں
گل تر ہوں پہ نوک خار میں ہوں
مرے حسن و جوانی کے مناسب
لگاؤ دام اور مجھ کو خریدو
کہ ہر صورت ادا کرنا ہے مجھ کو
کسی بیوی کی لاچاری کا قرضہ
کسی شوہر کی بیماری کا قرضہ