Poetry
Poet
Meter
- یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہےسکون کس کو بتوں کی خدائی دیتی ہےVala Jamal Al Aseeli
- آئنہ دیکھ کے کہتا ہے یہ دلبر میراماہ کنعاں بھی نہیں حسن میں ہمسر میراوفا لکھنوی
- پیری میں دل شباب کا خواہاں کہاں رہاافلاس میں عروج کا ارماں کہاں رہاوفا لکھنوی
- شب فراق میں میں نالہ و فغاں کرتاتو سن کے سارا جہاں شور الاماں کرتاوفا لکھنوی
- گھٹا ہو باغ ہو پہلو میں اپنے یار جانی ہوجو یہ ساماں میسر ہو تو لطف زندگانی ہووفا لکھنوی
- یہ راز سوز محبت کبھی عیاں نہ ہواتمام خانۂ دل جل گیا دھواں نہ ہواوفا لکھنوی
- درد کا میرے مداوا وہ کریں یا نہ کریںمیں ہوں مشکور دم نزع جو پردا نہ کریںوفا لکھنوی
- پھر لب پہ تیرا ذکر ہے پھر تیرا نام ہےپھر جاں لٹانے والوں کا اک ازدحام ہےYahya Amjad
- بحث تو اپنی ہے ہی نہیں طاقت والوں سےسارے دعوے ان کے الگ ہیں اپنی دلیلیں الگ سی ہیںYahya Amjad
- خدا گواہ دل اک لمحہ بھی نہیں غافلتمہاری یاد بھی باقی ہے دکھ بھی باقی ہےYahya Amjad
- طاقت ساری آپ کے بس میںساری ذہانت آپ کی ہےYahya Amjad
- نوحے لکھتے لکھتے یہ دل تھک جاتا ہےبکھرے ہوئے ہیں سب دل والےYahya Amjad
- شہرت اور عزت کے زینے پر چڑھتے فن کارکا سایہ ذلت کے پاتال میں اترا جاتا ہےYahya Amjad
- تم اور فریب کھاؤ بیان رقیب سےتم سے تو کم گلہ ہے زیادہ نصیب سےآغا حشر کاشمیری
- چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کیخوش بو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کیآغا حشر کاشمیری
- سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتیوہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتیآغا حشر کاشمیری
- ہاں ساقیٔ مستانہ بھر دے مرا پیمانہگھنگھور گھٹا ہے یا اڑتا ہوا مے خانہآغا حشر کاشمیری
- یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میںبھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میںآغا حشر کاشمیری
- ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیںمگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیںآسی الدنی
- الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہےغم لاکھ سہے تو ایک خوشی ملتی ہےآسی الدنی
- باتوں میں تو اختیار شیرینی کراظہار نیاز و عجز و مسکینی کرآسی الدنی
- ظالم دم نزع نہ آیا افسوسافسانۂ غم نہ سننے پایا افسوسآسی الدنی
- قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھیآشیانہ ہی مرا صورت نمائے دام تھاآسی الدنی
- جدا ہو کے ہم سے بتوں سے ملا دلبھلا دل بھلا دل بھلا دل بھلا دلعبد الغفور نساخ
- جس نے تری بے باک ادا کو نہیں دیکھاواللہ کہ آنکھوں سے فضا کو نہیں دیکھاعبد الغفور نساخ
- ظاہراً موت ہے قضا ہے عشقپر حقیقت میں جاں فزا ہے عشقعبد الغفور نساخ
- نقش دل ہے ستم جدائی کاشوق پھر کس کو آشنائی کاعبد الغفور نساخ
- پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہاوہ دل نہیں رہا وہ زمانہ نہیں رہاعبد الغفور نساخ
- اسے بھی رسم کا حصہ بتایا جاتا ہےہمیں گھسیٹ کے بازار لایا جاتا ہےFaisal Saghar
- جو تھامتے تھے مرا ہاتھ بوڑھے ہو گئے ہیںتبھی تو میرے خیالات بوڑھے ہو گئے ہیںFaisal Saghar
- صدائے کن ہوئی یکسر وجود میں آیامیں بھر چکا تو سمندر وجود میں آیاFaisal Saghar
- مجھے اپنے ہی اندر چور سا محسوس ہوتا ہےتجھے دیکھوں تو کوئی دیکھتا محسوس ہوتا ہےFaisal Saghar
- میں گراں بار تھا اس واسطے کم مایہ تھاتجھ کو کیوں روندا گیا تو تو فقط سایہ تھاFaisal Saghar
- اس تعلق کو تو رستے کی رکاوٹ نہ سمجھاب کسی اور کا ہونا ہے تو چل جا ہو جاFaiyaz Aswad
- حسن کیا ہے نظر کی شوخی ہےعشق کیا ہے پتہ نہیں کیا ہےFaiyaz Aswad
- کب سے نکلا ہوا ہے کسی کھوج میںچاند اپنی جگہ پر نہیں آ رہاFaiyaz Aswad
- کب کہا تو ساتھ میرے خودکشی کرڈوبتا ہوں اور تو منظر کشی کرFaiyaz Aswad
- وہ سمجھ تو لیں کہ یوں ہے انہیں اس سے کیا کہ کیوں ہےمری آنکھوں کی یہ سرخی مرے ہونٹوں کی سیاہیFaiyaz Aswad
- آرزو محو خواب ہے شایدجستجو کا جواب ہے شایدGeeta Thakur Raushni
- اپنا تمہیں جو کہہ اٹھے دیوانہ وار ہمکچھ بے قرار آپ تھے کچھ بے قرار ہمGeeta Thakur Raushni
- افسانۂ حیات کو دہرا رہے ہیں ہماپنے کئے کی آپ سزا پا رہے ہیں ہمGeeta Thakur Raushni
- طوفاں بدل گئے کبھی دھارے بدل گئےموجوں کے ساتھ ساتھ کنارے بدل گئےGeeta Thakur Raushni
- کہتے نہیں ہیں حال کسی راز داں سے ہمواقف ہوئے ہیں جب سے فریب جہاں سے ہمGeeta Thakur Raushni
- سرحد دشت سے آبادی کو جانے والوشہر میں اور بھی خوں ریز نظارے ہوں گےHabeeb Hashmi
- سفر کی آخری منزل میں پاس آیا ہےتمام عمر تھا جو دور آسماں کی طرحHabeeb Hashmi
- شب کی تنہائی میں ابھری ہوئی آواز جرسصبح گائی کا گجر ہو یہ ضروری تو نہیںHabeeb Hashmi
- نہ میں خستہ حال ہوتا نہ یہ اجنبی سے لگتےیہ حسیں حسیں فرشتے مجھے آدمی سے لگتےHabeeb Hashmi
- ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری ہے مگرسب کی تابندہ سحر ہو یہ ضروری تو نہیںHabeeb Hashmi
- بے نمود درد کی نمائش کیوںدل سے کرتی ہے آنکھ سازش کیوںHafeez Jauhar
- خواہش سے جب رنگ اترنے لگتے ہیںموسم اپنے اندر مرنے لگتے ہیںHafeez Jauhar