قسمت عجیب کھیل دکھاتی چلی گئی

Lata Haya

قسمت عجیب کھیل دکھاتی چلی گئی

جو ہنس رہے تھے ان کو رلاتی چلی گئی

دل گویا حادثات مسلسل کا شہر ہو

دھڑکن بھی چیخ بن کے ڈراتی چلی گئی

کاغذ کی طرح ہو گئی بوسیدہ زندگی

تحریر حسرتوں کی مٹاتی چلی گئی

میں چاہتی نہیں تھی مگر پھر بھی جانے کیوں

آئی جو تیری یاد تو آتی چلی گئی

آنکھوں کی پتلیوں سے ترا عکس بھی گیا

یعنی چراغ میں تھی جو باتی چلی گئی

ڈھونڈا انہیں جو رات کی تنہائی میں حیاؔ

اک کہکشاں سی ذہن پہ چھاتی چلی گئی