یہ کیسے نمو کے سلسلے ہیں
Hafeez Jauharیہ کیسے نمو کے سلسلے ہیں
شاخوں پہ گلاب جل بجھے ہیں
پھیلی ہے ستم کی آگ ہرسو
ہر سمت الاؤ جل رہے ہیں
ہر آنکھ سوال کر رہی ہے
ہر دل میں ہزار وسوسے ہیں
برسی ہیں بلائیں آسماں سے
دھرتی پہ عذاب اگ رہے ہیں
محفوظ نہیں پناہ گاہیں
کیا عقل رسا کے معجزے ہیں
بازار لہو کی وحشتوں کے
تہذیب کے نام پر سجے ہیں
غیروں پہ ہے انحصار اپنا
سوچیں بھی ادھار مانگتے ہیں
سورج بھی ہے دسترس میں لیکن
ہم روشنی کو ترس گئے ہیں
کیا جانیے عہد نو کب آئے
اب تک تو پرانے سلسلے ہیں