ہاتھ سے آخر چھوٹ پڑا پتھر جو اٹھایا تھا
Raees Farazہاتھ سے آخر چھوٹ پڑا پتھر جو اٹھایا تھا
کیا کرتا مجرم بھی تو خود اپنا سایا تھا
ایسا ہوتا کاش کہیں کچھ رنگ بھی مل جاتے
اس نے میرے خوابوں کا خاکہ تو بنایا تھا
اب تو بھی باہر آ جا یوں جسم میں چھپنا کیا
پردہ ہی کرنا تھا تو کیوں مجھ کو بلایا تھا
آج کے موسم سے بے سدھ کچھ لوگ کفن چہرہ
اب تک سہمے بیٹھے ہیں طوفان کل آیا تھا
جی چاہے تو اور بھی رک لے پلکوں کی چھاؤں میں
میں نے تو تجھ کو وقت کا بس احساس دلایا تھا
روز سویرے ویرانہ بچتا ہے فرازؔ آخر
ہم نے رات بھی خوابوں میں اک شہر سجایا تھا