بے زبانوں کی کہانی کی زباں ہوتے رہے
Madhukar Jha Khuddarبے زبانوں کی کہانی کی زباں ہوتے رہے
ہم تو یارو بارہا اشک رواں ہوتے رہے
دل پہ چاہے جتنے خنجر ہو لگے اے جان جاں
اس گلی میں ہم سراسر رائیگاں ہوتے رہے
جام ایسا ڈال ساقی زہر سا اب پیس کر
آج اس کو دیکھ سب جلوے عیاں ہوتے رہے
جان مقتل پر لٹا دی بے سبب خوددارؔ نے
جرم اس کے لن ترانی سے بیاں ہوتے رہے
اس نگر میں بے اثر بادہ کشی خوددارؔ کی
وہ نہ جانے کن غموں میں ناتواں ہوتے رہے