Poetry
Poet
Meter
- نشاط مے ہے کہ جام شراب ہے کیا ہےوہ خواب حسن ہے یا حسن خواب ہے کیا ہےNaeem Saba
- وہ دل کشی جو ترے حسن اور جمال میں ہےاسی کا عکس فروزاں مرے خیال میں ہےNaeem Saba
- ہزار غم ہوں تو پھر انتخاب کیسے کروںدریدہ دل کو میں نذر عذاب کیسے کروںNaeem Saba
- ہوا کی زد پہ دیے کو سنبھال رکھا ہےفصیل شب پہ اجالا بحال رکھا ہےNaeem Saba
- یہ تیرے ہجر کا موسم سراب جیسا ہےہر ایک لمحہ مسلسل عذاب جیسا ہےNaeem Saba
- خطۂ ارض پہ ایسی بھی جگہ ہے کہ جہاںشب میں تاریک اجالے کا گماں ہوتا ہےNaeem Saba
- وہ مری زندگی کا افسانہجب کبھی مجھ کو یاد آتا ہےNaeem Saba
- جب مرا چاک گریباں نہ ملادل نے پھر جسم سے ہر رشتہ کوNaeem Saba
- آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیںمیرے احساس میں سو درد اتر جاتے ہیںSabeenSaif
- اک بے ہنر ہوں اور ہنر چاہتی ہوں میںاب دھوپ کے سفر میں شجر چاہتی ہوں میںSabeenSaif
- بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہیگفتگو آگے بڑھائیں تو سہیSabeenSaif
- بہت قریب تھا پر مہرباں نہ تھا میرابھری بہار میں اک آشیاں نہ تھا میراSabeenSaif
- پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوابت کوئی میرا خدا کیسے ہواSabeenSaif
- تجھے بھلانے کی اب جستجو نہیں کرتےکہ اب کسی سے تری گفتگو نہیں کرتےSabeenSaif
- تمہارے خواب کی تعبیر ہو جاؤں اجازت ہےمحبت کی میں اک تصویر ہو جاؤں اجازت ہےSabeenSaif
- جن کے ہاتھوں میں سر ہمارے ہیںوہ ہمیں جان سے بھی پیارے ہیںSabeenSaif
- روشنی بن کر بکھرنے کے لیےزندگی ہے عشق کرنے کے لیےSabeenSaif
- عشق نے میرے جسے القاب کا دفتر دیااس نے سونے کو مجھے کانٹوں بھرا بستر دیاSabeenSaif
- عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتاہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتاSabeenSaif
- کب دیا یہ جلا ہوا کے لیےعشق ہوتا نہیں فنا کے لیےSabeenSaif
- لکھا تھا نام جو اک شام کورے کاغذ پروہ نام کیوں ہوا بدنام کورے کاغذ پرSabeenSaif
- میرا کتنا خیال کرتے ہوسانس لینا محال کرتے ہوSabeenSaif
- میری جب اس سے آشنائی تھیمیرے ہم راہ اک خدائی تھیSabeenSaif
- یاد تیری دلا رہے ہیں مجھےچاند تارے جلا رہے ہیں مجھےSabeenSaif
- میں حسیں ہوں مگراس قدر بھی نہیںSabeenSaif
- آنکھوں کو سوجھتا ہی نہیں کچھ سوائے دوستکانوں میں آ رہی ہے برابر صدائے دوستشرف مجددی
- اس نے مانگا جو دل دیے ہی بنیجو نہ کرنا تھا وہ کئے ہی بنیشرف مجددی
- اک خلق جو ہر سمت سے آئی ترے در پرآیا نظر انداز خدائی ترے در پرشرف مجددی
- پڑیں یہ کس کے جلوے پر نگاہیںنگاہیں بن گئیں خود جلوہ گاہیںشرف مجددی
- تم نے پوچھا نہیں کبھی ہم کوتم سے امید یہ نہ تھی ہم کوشرف مجددی
- چھوڑ کر مجھ کو چلی اے بے وفا میں بھی تو ہوںلے خبر میری بھی اے تیغ ادا میں بھی تو ہوںشرف مجددی
- دل کو یوں لے جانے والا کون تھاتھے تمہیں اور آنے والا کون تھاشرف مجددی
- دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیںسچ کہا ہے بشر میں کچھ بھی نہیںشرف مجددی
- روک دے موت کو بھی آنے سےکون اٹھے تیرے آستانے سےشرف مجددی
- ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کاجام مے بن گیا اک مست خود آرائی کاشرف مجددی
- کیا بتائیں تمہیں کہاں دل ہےرونگٹا رونگٹا یہاں دل ہےشرف مجددی
- کیوں دیکھتے ہی نقش بہ دیوار بن گئےتم آئنے میں کس کے خریدار بن گئےشرف مجددی
- گریباں چاک مجنوں بن سے نکلامیں لے کر دھجیاں دامن سے نکلاشرف مجددی
- نہ پوچھو شب وصل کیا ہو رہا ہےگلے میں ہیں بانہیں گلا ہو رہا ہےشرف مجددی
- ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کراب نکالیں وہ کوئی ظلم جفا سے بڑھ کرشرف مجددی
- ہے جو رنگ اس کی جلوہ گاہوں میںدیکھتا ہوں وہی نگاہوں میںشرف مجددی
- تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیالگی نہ دل کی تجھے دل لگا کے دیکھ لیاشرف مجددی
- بہ خدا عشق کا آزار برا ہوتا ہےروگ چاہت کا برا پیار برا ہوتا ہےسرور جہاں آبادی
- شب وصال مزا دے رہی ہے تو تیریلبوں سے گھولتی ہے قند گفتگو تیریسرور جہاں آبادی
- فقیروں پہ اپنے کرم اک ذرا کرترے در پہ بیٹھے ہیں دھونی رما کرسرور جہاں آبادی
- کسی مست خواب کا ہے عبث انتظار سو جاکہ گزر گئی شب آدھی دل بے قرار سو جاسرور جہاں آبادی
- آغاز ہے کچھ طرح نہ انجام ترابندوں پہ ہمیشہ لطف ہے عام تراسرور جہاں آبادی
- اس باغ میں کس کا پھول چنتے دیکھاسر خاک پہ باغباں کو دھنتے دیکھاسرور جہاں آبادی
- اس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹےبن بن کے حباب کاسۂ سر ٹوٹےسرور جہاں آبادی
- کافور ہے دل جلوں کو تنویر سحرٹھنڈک ہے کلیجوں کی طباشیر سحرسرور جہاں آبادی