اس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹے
سرور جہاں آبادیاس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹے
بن بن کے حباب کاسۂ سر ٹوٹے
گرداب فنا سے کوئی بچ کر نکلا
شل ہو کے یہاں دست شناور ٹوٹے
اس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹے
بن بن کے حباب کاسۂ سر ٹوٹے
گرداب فنا سے کوئی بچ کر نکلا
شل ہو کے یہاں دست شناور ٹوٹے