عشق نے میرے جسے القاب کا دفتر دیا

SabeenSaif

عشق نے میرے جسے القاب کا دفتر دیا

اس نے سونے کو مجھے کانٹوں بھرا بستر دیا

میری تحریروں سے خائف ہو کے پھر اغیار نے

رنگ کوئی اور افسانوں میں میرے بھر دیا

تیرے آنگن سے اترتی چاندنی نے اب تلک

خوف بخشا سسکیاں دیں اور مجھ کو ڈر دیا

جا تری جھولی میں میں نے اپنی خوشیاں ڈال دیں

جا ترے دامن کو امیدوں سے میں نے بھر دیا

تیری چاہت کا بھرم رکھنے کا سودا سر میں تھا

ہم نے اپنا گھر دیا پھر زر دیا پھر سر دیا

جب ہنر اس کی محبت کا کھلا مجھ پر سبینؔ

قید اس نے گھر کی دیواروں میں مجھ کو کر دیا