تجھے بھلانے کی اب جستجو نہیں کرتے

SabeenSaif

تجھے بھلانے کی اب جستجو نہیں کرتے

کہ اب کسی سے تری گفتگو نہیں کرتے

وجود کو مرے موجودگی سمجھتے ہیں

وہ نا سمجھ جو مری آرزو نہیں کرتے

ہیں مہربان شجر کس قدر کہ ہو کے خفا

کبھی وہ پھولوں کو بے رنگ و بو نہیں کرتے

جو اپنے عشق کو خود میں سمائے پھرتے ہیں

تلاش پھر وہ اسے کو بہ کو نہیں کرتے

وہ جن کو پاس ہو اپنے گھروں کی حرمت کا

کسی کو وہ کبھی بے آبرو نہیں کرتے

رموز عشق جو اک بار جان لیتے ہیں

کسی کے دل کو کبھی وہ لہو نہیں کرتے

نماز غزلوں کی میری ادا نہیں ہوتی

جو حرف نام سے تیرے وضو نہیں کرتے