نشاط مے ہے کہ جام شراب ہے کیا ہے
Naeem Sabaنشاط مے ہے کہ جام شراب ہے کیا ہے
وہ خواب حسن ہے یا حسن خواب ہے کیا ہے
نگار حسن غزالاں بہار راحت جاں
سحر کا نور ہے وہ ماہتاب ہے کیا ہے
ہوا چلی وہی خوشبو بدن کی یاد آئی
یہ خواب ہے کہ حقیقت سراب ہے کیا ہے
شب وصال جو گزری کہ تیرے چہرے پر
صبا کا لمس ہے رنگ حجاب ہے کیا ہے
یہ شام غم بھی نہیں یاد رفتگاں بھی نہیں
عجیب سی ہے خلش اضطراب ہے کیا ہے
چمن میں نکہت گل ہے نہ اب نسیم بہار
دھواں سا پھیلا ہوا ہے سحاب ہے کیا ہے
چراغ اب بھی تری رہ گزر میں جلتا ہے
مری وفا کا صلہ ہے حساب ہے کیا ہے
وہ شمس ہے کہ ستارا وہ چاند ہے کہ سحر
وہ شخص جان صباؔ ہے سراب ہے کیا ہے